تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 664
اقتباس از تقریر فرموده 16 اپریل 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔۔جلد اوّل سمجھا تھا کہ یہ پڑھے گا تو ان کی اصل غرض تعلیم دلانا ہوتی ہے۔مگر نام وقف کا لیتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ایسے لڑکوں پر مبلغین کے انتخاب کو حاوی کرنا نقصان دہ امر ہے۔ایک وقت ہم مجبور تھے کہ ایسے مبلغ لیں۔چنانچہ تین سال پہلے ہم نے لئے مگر آج نہیں لے سکتے۔جنگ عظیم کے دنوں میں رنگروٹوں کو صرف دو ماہ کی ٹرینگ کے بعد آگے بھیج دیا جاتا تھا۔حالانکہ عام حالات میں یہ عرصہ دو سال کا ہوتا ہے۔اس وقت صرف ید دیکھا جاتا تھا کہ اسے بندوق کندھے پر رکھنا آتی ہواور وہ ڈرے نہیں اور یہ اس لئے کیا جاتا تھا کہ میدان خالی نہ رہے۔میں نے جنگ عظیم کے متعلق پڑھا ہے کہ ایک موقع ایسا آ گیا تھا کہ سات میل کا رقبہ بالکل خالی ہو گیا تھا۔اس موقعہ میں انگریزی فوج کے آدمی یا تو شکست کھا کر ہٹ چکے تھے اور یا مارے جاچکے تھے۔اگر جرمن افواج کو اس کا علم ہو جاتا تو جنگ کا نقشہ بالکل بدل جاتا۔جب جنرل Haug کو اس کا علم ہوا تو اس نے ایک ماتحت جرنیل کو جو شاید آسٹرین یا کینیڈین تھا بلایا اور کہا کہ ایسا ایسا واقعہ ہو گیا ہے۔ہمارے پاس اس وقت فوج نہیں جو اس خلا کو پورا کر سکے۔میں یہ کام تمہارے سپرد کرتا ہوں کہ جس طرح بھی ہو سکے انتظام کرو کہ یہ خلا پر ہو جائے۔چنانچہ وہ جرنیل موٹر میں بیٹھا اور دھوبیوں اور باورچیوں اور دوسرے ملازموں سے جو فوج کے پیچھے کام کرتے ہیں جا کر کہا کہ تم لوگ ہمیشہ جنگ میں شریک ہونے کی خواہش کیا کرتے ہو۔آج تمہارے لئے بھی حو صلے نکالنے کا موقعہ آ گیا ہے۔جو ہتھیار جس کے ہاتھ میں آئے لے لو اور چلو۔بعض کو بندوق چلانی آتی تھی انہیں تو بندوقیں دے دی گئیں۔مگر دوسروں نے کرالیں اور پھاوڑے وغیرہ لے لئے۔بعض نے کفگیر ہی اٹھائے اور چار پانچ گھنٹے اس خلا کو پر کئے رکھا اور دشمن کو یہ خیال بھی نہ ہوا کہ یہاں کوئی فوج نہیں ہے۔حتی کہ پیچھے سے کمک آگئی۔اس طرح گزشتہ تحریک کے موقعہ پر میں نے بعض ایسے مبلغ بھی لئے تھے جو ہر گز اس ذمہ واری کے اٹھانے کے قابل نہ تھے۔لیکن ہم نے کہا کہ جاؤ اور صرف اتنا کہ دو کہ مسیح آگیا اور اس بات میں ان کی طرف سے غلطی کا کیا امکان ہوسکتا تھا۔گو ان میں سے بعض نے غلط مسائل بھی بیان کر دیئے اور بعد میں ہمیں سنبھالنا پڑا مگر اب وہ حالات بدل رہے ہیں۔سالہا سال کے غور کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مبلغ بننا بڑی ذمہ داری ہے۔مبلغ پیدا نہیں کیا جاسکتا بلکہ وہ پیدا ہوتا ہے۔یہ خیال کہ کوئی کالج مبلغ پیدا کر سکتا ہے، بالکل غلط ہے۔مبلغ وہ ہے جس کے دل کی ایمان کی حالت انبیاء کے ایمان کی مثل ہو اور ظاہر ہے کہ یہ چیز خدا کی دین ہے۔ہم کسی کے اندر سے پیدا نہیں کر سکتے۔یہ خیال کرنا کہ قدوری یا هدایا یا تفسیریں پڑھنے سے یہ بات پیدا ہو سکتی 664