تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 645
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 2 دسمبر 1938ء روز اخبارات دیکھتے رہیں گے کہ کہیں اس میں کوئی ملازمت کا اعلان تو نہیں؟ اور جب انہیں کوئی اعلان نظر آئے گا تو فوراً درخواست بھیج دیں گے۔چند دن کے بعد جواب آجائے گا کہ جگہ پر ہو گئی ہے یا ہمیں جس لیاقت کا آدمی چاہئے تھا وہ تم میں نہیں یا انٹرویو کے لئے آجاؤ مگر آنے جانے کا خرچ تمہارا ہوگا۔یہ پندرہ بیس روپے خرچ کر کے وہاں پہنچیں گے تو معلوم ہوگا کہ وہاں چار پانچ سوامیدوار ہیں جو ان سے لیاقت میں کہیں بڑھ چڑھ کر ہیں اور یہ ان میں ایسے معلوم ہوتے ہیں جیسے اونٹوں میں بلی۔چنانچہ یہ وہاں سے ناکام و نامراد واپس آئیں گے۔ماں باپ گالیاں دیں گے کہ بے حیا ہمیں تجھ سے امید تھی کہ تو ہماری مدد کرے گا مگر تو نے الٹا ہم پر دس پندرہ روپے کا مزید قرضہ چڑھا دیا۔یہ حالات ہیں جو آج کل عام طور پر نو جوانوں کو پیش آتے رہتے ہیں۔پھر کیوں وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ جب خدا نے ہمیں ایک ایسی جماعت میں پیدا کیا ہے جو دین کی خدمت کے لئے کھڑی ہے تو اپنے آپ کو دین کی خدمت کیلئے وقف کر دیا جائے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا وہ اعزار حاصل کیا جائے جس سے بڑا اور کوئی اعزاز نہیں مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہم ایسے ہی لوگ لیں گے جو ہمارے معیار پر پورے اتریں گے اور جن کے متعلق ہمیں یہ یقین ہوگا کہ وہ ہمارے کام کے اہل ہیں۔بعض ممکن ہے محنتی نہ ہوں، بعض ممکن ہے اچھی تقریر نہ کر سکتے ہوں ، اسی طرح ممکن ہے کہ بعض میں دین کی محبت اور اخلاص کم ہو ، بعض کے متعلق شبہ ہو کہ وہ سچائی کے معیار پر پورا نہیں اتریں گے بعض علوم میں ترقی کی قابلیت نہ رکھتے ہوں اور چونکہ اس قسم کے تمام امکانات ہو سکتے ہیں اس لئے جو نو جوان اپنے آپ کو پیش کریں گے ان میں سے ہم مناسب حال نوجوانوں کو چنیں گے مگر بہر حال جو اپنے آپ کو پیش کریں گے انہی میں سے ہم چنیں گے جو اپنے آپ کو پیش ہی نہیں کریں گے ان کا انتخاب ہم کس طرح کر سکتے ہیں؟ پس میں آج کے خطبہ کے ذریعہ پھر اعلان کرتا ہوں کہ جو دوست گر بیجوایٹ ہوں یا مولوی فاضل ہوں یا فنون عالیہ سیکھ رہے ہوں وہ اپنے آپ کو پیش کریں تا ہم انتخاب کر کے اس تعداد کو پورا کر سکیں جس تعداد کو پورا کرنا اس دوسرے دور میں میرا منشا ہے۔اگر ایسے نوجوان ہمیں جلد میسر آجائیں تو وہ موجودہ نو جوانوں کے ساتھ ہی تعلیم سے فارغ ہو جائیں گے۔گو ان کی نو ماہ سے پڑھائی شروع ہے مگر نو ماہ کی پڑھائی کی کمی کو پورا کرنا ان کیلئے کوئی زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔اگر وہ توجہ اور محنت سے کام کریں گے تو امید ہے کہ یہ کمی بہت جلد پوری کر لیں گے اور اس طرح ہمارے لئے بھی آسانی رہے گی کہ ہمیں دو دفعہ سکول نہیں کھولنا پڑے گا اور نہ دو دفعہ مدرسوں کو ان کی تعلیم کیلئے مقرر کرنا پڑے گا لیکن اگر جلد یہ تعداد پوری نہ ہوئی تو دو سال ان کی تعلیم اور پیچھے جا پڑے گی اور اس کام میں زیادہ 645