تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 644 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 644

اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 2 دسمبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول ضرورت نہیں کہ تلوار اور بندوق سے جنگ کر کے جان قربان کی جائے بلکہ آج کل اپنی جان قربان کرنے کا صرف یہی ذریعہ ہے کہ نوجوان اپنی تمام زندگی اللہ تعالیٰ کے حکم کے اعلا کے لئے صرف کر دیں۔اگر ہماری جماعت کے نوجوان اپنی زندگیاں خدمت دین کیلئے وقف کر دیں تو وہ دشمن کو کہہ سکتے ہیں کہ تم تو کہتے تھے کہ یہ جماعت گندی ہوگئی، اس جماعت میں کوئی قربانی کی روح نہیں رہی، یہ دین سے غافل اور لا پروا ہو چکی ہے۔پھر اگر یہ جماعت ایسی ہی ہے تو ہم لوگ کہاں سے پیدا ہو گئے جنہوں نے اپنی زندگی کی ہر گھڑی خدا تعالیٰ کے دین کے اعلا کیلئے وقف کر دی ہے؟ یہ بہترین جواب ہوگا جو ہمارے نوجوان اپنے عمل سے دشمنوں کو دے سکتے ہیں لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ اس وقف کی شرائط وہی ہیں جو شائع ہو چکی ہیں۔بعض لوگ یونہی اپنے نام پیش کر دیتے ہیں اور ساتھ ہی کچھ مجبوریاں اور کچھ شرطیں بھی لکھ دیتے ہیں یہ بالکل نادرست طریق ہے۔ہماری طرف سے جس قدر شرائط ہیں وہ چھپی ہوئی موجود ہیں، وہ دیکھ لی جائیں اور ان پر غور کرنے کے بعد اگر کوئی شخص تیار ہوتو وہ ہماری طرف آئے یونہی اپنا نام پیش کر دینا اور پھر عذرات بیان کرنے لگ جانا مومنانہ طریق نہیں بلکہ اس طرح اپنے آپ کو پیش کرنا گناہ کا موجب ہے کیونکہ اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ شخص جھوٹی شہرت چاہتا ہے۔میں بتا چکا ہوں کہ اب کی دفعہ صرف ایسے لوگ ہی لئے جائیں گے جو یا تو انگریزی کے گریجوایٹ ہوں یا عربی کے۔اگر کوئی نوجوان اپنی تعلیم کے ایسے حصہ میں ہو جس سے وہ عنقریب فارغ ہونے والا ہو تو وہ بھی اپنے آپ کو پیش کر سکتا ہے۔گو فیصلہ اسی وقت ہو گا جب وہ اپنی تعلیم سے فارغ ہو جائے گا۔مثلاً وہ نوجوان جنہوں نے اب کی دفعہ بی۔اے کا امتحان دینا ہے یا جو وکالت یا ڈاکٹری کی تیاری کر رہے ہیں۔وہ اگر چاہیں تو اپنے آپ کو وقف کر سکتے ہیں۔ان کے بقیہ زمانہ تعلیم میں ہمیں بھی علم ہو جائے گا کہ ہم انہیں لے سکتے ہیں یا نہیں اور انہیں خود بھی علم ہو جائے گا کہ وہ امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔اس زمانہ میں نوکریوں کا ملنا بہت مشکل ہو گیا ہے اور اگر کسی کو نوکری ملتی بھی ہے تو معاوضہ اتنا قلیل ملتا ہے کہ گزارہ ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔پس اگر انسان نے تعلیم سے فارغ ہو کر گھر میں بیٹھ کر ہی روٹی کھانی ہے تو کیوں نہیں وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کیلئے وقف کر دیتا اور سمجھ لیتا کہ گھر میں بے کار بیٹھنے سے یہ کروڑ درجے بہتر ہے کہ انسان دین کی خدمت کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خوشنودی حاصل کرے اور آئندہ آنے والی نسلوں کی دعا حاصل کرتا یہ کتنا بڑا اعزاز ہے جو اسے حاصل ہوسکتا ہے مگر کئی آدمی گھر میں بیٹھے کھیاں مارتے رہیں گے اور ہر 644