تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 646 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 646

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 2 دسمبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول وقفہ پڑ جائے گا۔میں امید کرتا ہوں کہ جس طرح پہلے نو جوانوں نے اپنے آپ کو دلیری سے پیش کیا ہوا ہے اسی طرح اور نوجوان بھی اپنے آپ کو پیش کریں گے۔میرے پہلے اعلان کے بعد اس وقت تک پانچ سات درخواستیں آچکی ہیں مگر یہ تعداد کافی نہیں اور انتخاب کیلئے اس سے بہت زیادہ تعداد کی ضرورت ہے۔پس دوست اپنے آپ کو وقف کریں مگر یہ ضروری ہوگا کہ وہ بلا شرط اپنی زندگی وقف کریں جو شخص کسی شرط کے ساتھ اپنے آپ کو وقف کرتا ہے اس کا وقف بالکل فضول ہے۔یہ ساری عمر کا وقف ہوگا اور ان کا یہ اختیار نہیں ہوگا کہ وہ پیچھے ہیں۔ہاں ہمیں یہ اختیار ہر وقت حاصل رہے گا کہ ہم چاہیں تو انہیں شروع میں ہی رد کر دیں اور چاہیں تو کام کے دوران میں ان کو فارغ کر دیں۔ہم ایسے نو جوانوں کو پہلے دین کی تعلیم دلائیں گے اور صحیح اسلامی تمدن ان کو بتائیں گے۔اس کے بعد انہیں دنیوی تعلیم دلائیں گے اور پھر ہم ان سے یہ امید رکھیں گے کہ وہ اپنی زندگی اسلام اور احمدیت کی اشاعت، بنی نوع انسان کی ہمدردی اور سلسلہ احمدیہ کی ترقی کیلئے صرف کر دیں۔ہمیں ایسے نوجوان نہیں چاہئیں جو حکومت کے طالب ہوں بلکہ ہمیں وہ نو جوان چاہئیں جو بچے طور پر غربا کی خدمت اور اپنے سلسلہ کی خدمت کرنے کے لئے تیار ہوں۔میں ان واقفین کے ذریعہ وہ جماعت تیار نہیں کرنا چاہتا جو افسروں کی جماعت ہو بلکہ وہ جماعت تیار کرنا چاہتا ہوں جس کے ہر فرد کو یہ احساس ہو کہ میں نے جماعت احمدیہ کی خصوصاً اور بنی نوع انسان کی عموماً خدمت کرنی ہے ہے۔جب تک اس رنگ میں کام کرنے والے ہمیں نہیں ملیں گے اس وقت تک وہ تمدن قائم نہیں ہو سکتا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں قائم کیا تھا اور جس کے قائم کرنے کی آپ نے تعلیم دی ہے۔ہاں یہ یاد رکھو کہ وہ شخص جو خدا تعالیٰ کے لئے ذلت اختیار کرتا ہے۔وہ بہت زیادہ عزت حاصل کرتا ہے۔کوئی تم میں سے یہ خیال نہ کرے کہ وہ خدا تعالیٰ کے دین کیلئے اپنے آپ کو وقف کر کے اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو لوگوں کی نگاہ میں ذلیل کرے گا۔ذلیل وہی ہوتا ہے جس کے دل میں دوغلی حکومت ہوتی ہے، آدھی خدا کی اور آدھی شیطان کی۔ایسا شخص کبھی ذلت بھی دیکھ لیتا ہے مگر وہ ، جس کے دل پر خالص خدا تعالیٰ کی حکومت ہو وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتا۔کئی ہیں کہتے ہیں کہ غربا کی کوئی قدر نہیں۔بے شک دنیا میں غربا کی کوئی قدر نہیں مگر وہ جو خالص خدا تعالیٰ کے لئے غریب ہو اس کی پھر بھی عزت ہوتی ہے مگر وہ جود وفلی چال چلے وہ اگر کسی وقت عزت پالیتا ہے تو دوسرے وقت ذلیل بھی ہو جاتا ہے۔آخر خود ہی غور کرو حضرت مسیح موعود کون سے امیر تھے ؟ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کا اتنا سادہ لباس ہوا کرتا تھا کہ اس کی کوئی حد نہیں مگر باوجود اس کے بڑے سے بڑا آدمی آپ کی عزت کرنے پر مجبور ہوتا تھا۔اس 646