تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 623 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 623

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعہ فرمود : 18 نومبر 1938ء سابقہ معیار کو قائم رکھ سکتے ہیں اور اسی طرح ان لوگوں کو جو اپنی قربانی کے معیار کو بڑھا سکتے ہیں، کہتا ہوں کہ تم میں سے وہ، جنہوں نے گزشتہ سالوں میں اپنی طاقت سے کم حصہ لیا تھا وہ اپنی ستی کا ازالہ کریں اور خدا تعالیٰ نے ان کے لئے ثواب کا جو ایک اور موقعہ پیدا کر دیا ہے اس سے فائدہ اٹھا ئیں اور وہ جو اپنی سابقہ قربانیوں کے معیار کو قائم رکھ سکتے ہیں وہ اپنے معیار کو قائم رکھیں اور جو اس معیار کو بڑھا کر زیادہ قربانی کر سکتے ہیں وہ زیادہ قربانی کریں۔اللہ تعالیٰ کے ہاں ثواب کی کمی نہیں۔اگر تم زیادہ قربانی کرو گے تو اللہ تعالیٰ سے زیادہ اجر پاؤ گے اور اگر کم قربانی کرو گے تو بالکل ممکن ہے کہ قیامت کے دن تم جو اپنے آپ کو ایم۔اے سمجھ رہے ہو انٹرنس پاس ثابت ہو اور ایک انٹرنس پاس خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ایم۔اے ثابت ہو۔پس وہ لوگ جنہوں نے کمزوری دکھائی تھی ان کیلئے اس بات کا موقعہ ہے کہ وہ اپنی پچھلی کمزوریوں کا اس رنگ میں کفارہ ادا کریں کہ تحریک جدید کے اس سال میں پہلے سالوں سے زیادہ حصہ لیں تا خدا تعالیٰ کے حضور ان لوگوں کا نام کمزور لوگوں میں نہ لکھا جائے بلکہ ان لوگوں میں لکھا جائے جنہوں نے اس کے دین کے جھنڈے کو اپنی پوری طاقت کے ساتھ بلند رکھا۔اس کے مقابلہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں جن کی مالی حالت خدا تعالیٰ نے پہلے سے زیادہ مضبوط کر دی ہے۔آج سے چار سال پہلے ان کی حالت سخت کمزور تھی مگر آج خدا تعالیٰ نے انہیں اپنی نعمتوں سے مالا مال کیا ہوا ہے۔ایسے لوگوں کی یہ بے وقوفی ہوگی اگر وہ اپنے چندہ میں کمی کریں۔جب خدا نے ان سے خاص سلوک کیا ہے تو ان کا بھی فرض ہے کہ وہ خاص جواب دیں۔پس وہ لوگ جن کی مالی حالت کو اللہ تعالیٰ نے مضبوط بنایا ہے ان پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور انہیں اپنے چندہ میں کمی کرنے کی بجائے اسے بڑھاتے چلے جانا چاہئے اور وہ جن کی مالی حالت تو اللہ تعالیٰ نے اچھی رکھی ہو مگر وہ چندے کو بڑھانہ سکتے ہوں انہیں کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اپنے معیار کو قائم رکھیں۔پس گو قانون یہی ہے کہ چندہ میں ہر سال دس فیصدی کمی کی اجازت ہے مگر اس سے فائدہ اس کو اٹھانا چاہئے جو واقعہ میں مجبور اور معذور ہو اور جو واقعہ میں مجبور اور معذور نہ ہوا سے اس سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہئے۔میں نے خود گزشتہ سال پہلے سالوں سے زیادہ چندہ دیا تھا اور باوجود سخت مقروض ہونے کے اب بھی زیادہ ہی دینے کا ارادہ ہے اور بھی کئی دوست ہیں جنہوں نے پہلے سالوں سے زیادہ چندہ پیش کر دیا ہے اور بعض مخلصین نے تو ایسا نمونہ دکھایا ہے کہ ان پر رشک آتا ہے۔ایک دوست ہیں وہ اپنی ملازمت سے ریٹائر ہوئے تو انہیں گورنمنٹ کی طرف سے پراویڈنٹ فنڈ ملا۔وہ اب بوڑھے اور کمزور ہو چکے ہیں اور کوئی تجارت وغیرہ کا کام نہیں کر سکتے 623