تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 622
اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 18 نومبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول دیں۔یعنی اگر کسی نے سوروپے دیئے تھے تو وہ نوے روپے دے سکتا ہے، ہزار روپے دیئے تھے تو نو سو روپے دے سکتا ہے، پچاس روپے دیئے تھے تو 45 روپے دے سکتا ہے، 20 روپے دیئے تھے تو 18 روپے دے سکتا ہے اور دس روپے دیئے تھے تو نو روپے دے سکتا ہے لیکن میں اس کے ساتھ یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ جو شخص توفیق کے ہوتے ہوئے اپنے چندہ میں کمی کرتا ہے وہ اپنے ایمان کو اپنے ہاتھوں نقصان پہنچاتا ہے۔یہ اجازت جو میں نے دی ہے، یہ صرف اس لئے ہے کہ میں جانتا ہوں ابتدا میں بعض لوگوں نے جوش میں آکر اپنی طاقت سے بہت زیادہ چندہ دے دیا تھا۔پس ان کے لئے بغیر اس کمی کے چارہ نہیں اور ان کے لئے بھی یہ کی اس لئے ہے تا پہلے سالوں سے کم چندہ دینے کی وجہ سے ان کا دل میلا نہ ہو اور وہ کہہ سکیں کہ گو ہمیں مالی مشکلات درپیش ہیں مگر پھر بھی قانون کے اندر رہتے ہوئے ہم نے مالی قربانی میں حصہ لے لیا ہے۔بے شک تم کہہ سکتے ہو کہ اگر ایک شخص مجبور اور معذور ہے اور اس نے اپنی معذوری کی وجہ سے تحریک میں پہلے جتنا حصہ نہیں لیا تو اس میں کیا حرج ہے؟ مگر تم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ اگر اس کی اجازت میں قانون کے رنگ میں نہ دوں تو اس کا دل ضرور میلا ہوگا اور وہ کہے گا کہ افسوس! میں پہلے جتنا حصہ اب کی دفعہ نہ لے سکا۔پس میری غرض اس کمی سے یہ ہے کہ اگر کوئی واقعہ میں مجبور ہو اور اپنی مجبوری کی وجہ سے ہی پہلے جتنا حصہ نہ لے سکتا ہو تو اس کا دل بھی میلا نہ ہو اور وہ یہ نہ کہے کہ افسوس! میں اتنی قربانی نہ کر سکا بلکہ وہ پھر بھی خوش ہو اور کہے کہ باوجود مجبوری کے میں نے اس قدر قربانی کر لی ہے جس قدر قربانی کا سلسلہ نے مجھ سے مطالبہ کیا تھا۔پس یہ صرف دل کے میلا نہ ہونے کیلئے میں نے شرط رکھی ہے ورنہ میرا ارادہ یہی ہے کہ ہر سال میں اپنا چندہ کچھ نہ کچھ بڑھاتا چلا جاؤں اور کئی دوسرے دوست بھی ہیں جنہوں نے ہر سال اپنا چندہ بڑھایا ہی ہے گھٹایا نہیں۔پس مجھے چندہ میں دس فیصدی کمی کی اجازت دینے کا قانون بنانے کی ضرورت اس لئے پیش آتی ہے کہ میں چاہتا ہوں وہ لوگ جنہوں نے پہلے سال جوش میں بہت کچھ چندہ دے دیا تھا حتی کہ اپنی طاقت سے بھی زیادہ دے دیا تھا ان کے دل بھی میلے نہ ہوں یا وہ لوگ جن کی مالی حالت بعد میں واقعہ میں کمزور ہو گئی ہے ان کا دل بھی میلا نہ ہو، ورنہ میں جانتا ہوں کہ جماعت کا ایک حصہ ایسا ہے جس نے ہر سال اپنے چندہ میں زیادتی کی ہے۔اس کے مقابلہ میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے اپنی طاقت سے کم حصہ لیا ہے۔میں اس موقعہ پر ان تمام لوگوں کو جنہوں نے گزشتہ سالوں میں اپنی طاقت سے کم حصہ لیا تھا یا ان لوگوں کو جوانی قربانی کے 622