تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 616 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 616

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 18 نومبر 1938ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول سے اس پا یہ کے نوجوان پیدا کئے جائیں جو تبلیغ تعلیم اور تربیت کے کام میں دنیا کے بہترین نوجوانوں کا مقابلہ کر سکیں بلکہ ان سے فائق ہوں صرف انہیں مذہبی تعلیم ہی دینا میرے مدنظر نہیں بلکہ میر امنشا ہے کہ انہیں ہر قسم کی دنیوی معلومات بہم پہنچائی جائیں اور دنیا کے تمام علوم انہیں سکھائے جائیں تا دنیا کے ہر کام کو سنبھالنے کی اہلیت ان کے اندر پیدا ہو جائے۔ان نوجوانوں کے متعلق میری سکیم جیسا کہ میں گزشتہ مجلس شوری کے موقعہ پر بیان کر چکا ہوں، یہ ہے کہ انہیں یورپین ممالک میں بھیج کر اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دلائی جائے اور جب یہ ہر قسم کے علوم میں ماہر ہو جائیں تو انہیں تنخواہیں نہ دی جائیں بلکہ صرف گزارے دیئے جائیں اور ان کے گزارہ کی رقم کا انحصار علمی قابلیت کی بجائے گھر کے آدمیوں پر ہو جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں ہوا کرتا تھا اور یوں انتظام ہو کہ جس کی بیوی ہوئی یا بچے ہوئے اسے زیادہ الاؤنس دے دیا اور جس کے بیوی بچے نہ ہوئے اسے کم گزارہ دے دیا یا کسی نوجوان کی شادی ہونے لگی تو اسے تھوڑی سی امداد دے دی۔یہ نہیں ہوگا کہ چونکہ فلاں ولایت سے پاس شدہ ہے اس لئے اسے زیادہ تنخواہ دی جائے اور فلاں چونکہ ولایت کا پاس شدہ نہیں اس لئے اسے کم تنخواہ دے دی جائے۔سب کو یکساں گزارے ملیں گے خواہ کوئی ولایت کا پاس شدہ ہو یا یہاں کا۔ہاں گزارے میں زیادتی شادی ہونے یا بچوں کے پیدا ہونے پر ہو سکے گی۔مثلاً اگر ایک ولایت کا پاس شدہ نوجوان بھی ہمارے پاس ہو گا تو ہم اسے پندرہ روپے ہی دیں گے۔اس کے مقابلہ میں اگر کوئی ایسا ہے جو ولایت کا پاس شدہ نہیں تو اسے بھی پندرہ روپے ہی ملیں گے۔ہاں اگر شادی ہو جائے اور پھر بچے پیدا ہونے لگ جائیں تو اس صورت میں اس گزارہ میں کچھ نہ کچھ اضافہ ہوتا رہے گا کیونکہ بچوں نے تو کھانا ہے۔مگر علم نے نہیں کھانا۔میں نے دیکھا ہے اگر اس لحاظ سے تقسیم کی جائے تو دولت مند غریب ہو جاتے ہیں اور غریب دولت مند۔بعض لوگ صرف میاں بیوی ہوتے ہیں ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوتی لیکن وہ پچاس روپیہ ماہوار کما رہے ہوتے ہیں اس کے مقابلہ میں ایک اور شخص ہوتا ہے اس کے آٹھ بچے ہوتے ہیں اور وہ سو روپیہ ماہوار کماتا ہے۔اب پچاس روپے والا یہ نہیں دیکھے گا کہ مجھے پچاس روپے ملتے ہیں اور ہم کھانے والے صرف دومیاں بیوی ہیں اور اسے گوسو روپیہ ملتے ہیں مگر اس کے گھر کھانے والے دس افراد ہیں بلکہ وہ پچاس اور س کو دیکھ کر شور مچانے لگ جائے گا کہ غریبوں کو کوئی پوچھتا ہی نہیں۔امیروں کو سب پوچھتے ہیں۔حالانکہ یہ پچاس روپے کما کر 25 روپے خود رکھتا اور 25 روپے اپنی بیوی کو دیتا ہے اور سو روپیہ کمانے والا ہر ایک کو دس دس روپے دیتا ہے مگر یہ 25 روپے لے کر بھی اپنے آپ کو غریب کہتا ہے اور دوسرے کو باوجود دس روپیہ کی آمد کے امیر قرار دیتا ہے 616