تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 615
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 18 نومبر 1938ء بھی مستقل ہے، ایک مستقل جماعت واقفین کی تیار کر رہا ہوں۔دور اول میں میں نے کہا تھا کہ نو جوان تین سال کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں مگر دور ثانی میں وقف عمر بھر کیلئے ہے اور اب یہ واقفین کا ہرگز حق نہیں کہ وہ خود بخود کام چھوڑ کر چلے جائیں۔ہاں ہمیں اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ اگر ہم انہیں کام کے نا قابل جائیں تو انہیں الگ کر دیں۔پس یہ سہ سالہ واقفین نہیں بلکہ جس طرح یہ دور منتقل ہے اسی طرح یہ وقف بھی مستقل ہے۔اس دور میں کام کی اہمیت کے پیش نظر میں نے یہ شرط عائد کر دی ہے کہ صرف وہی نوجوان لئے جائیں گے جو یا تو گریجوایٹ ہوں یا مولوی فاضل ہوں اور جو نہ گریجوایٹ ہوں اور نہ مولوی فاضل ، انہیں نہیں لیا جائے گا کیونکہ ان لوگوں نے علمی کام کرنے ہیں اور اس کے لئے یا تو دینی علم کی ضرورت ہے یاد نیوی علم کی۔اس دور میں تین چار آدمیوں کو منہا کر کے کہ وہ گریجوایٹ نہیں کیونکہ وہ پہلے دور کے بقیہ واقفین میں سے ہیں، باقی سب یا تو گریجوایٹ ہیں یا مولوی فاضل ہیں۔چنانچہ اس وقت چار گریجوایٹ ہیں اور چار ہی مولوی فاضل ہیں کل غالباً بارہ نو جوان ہیں۔چار ان میں سے غیر گریجوایٹ ہیں مگر ہیں سب ایسے ہی جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے محنت سے کام کرنے والے اور سلسلہ سے محبت رکھنے والے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ جس رنگ میں یہ کام کر رہے ہیں اس کے ماتحت یہ ان علمی کاموں کو سرانجام دے دیں گے جو علمی کام میرے مد نظر ہیں۔میرا ارادہ ہے کہ اس جماعت کا پہلا دور 24 نوجوانوں پر مشتمل ہو کیونکہ کام کے لحاظ سے اس سے کم میں گزارہ نہیں ہو سکتا۔اس کیلئے میں عنقریب تحریک کرنے والا ہوں بلکہ اسی خطبہ کے ذریعہ میں تحریک کر دیتا ہوں کہ جو نو جوان گریجوایٹ ہوں یا مولوی فاضل، وہ اپنی زندگی خدمت دین کے لئے وقف کرنے کے ارادہ سے میرے سامنے اپنے نام پیش کریں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو بھی گریجوایٹ یا مولوی فاضل ہوگا اسے ہم بہر حال لے لیں گے کیونکہ انتخاب ہماری مرضی پر ہے، ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ ان کا تقویٰ کیسا ہے؟ خدمت دین کا جذبہ کس حد تک ہے ؟ علم کیسا ہے؟ صحت کیسی ہے؟ ان کے حالات کس قسم کے ہیں اور آیا جو کام ہمارے مد نظر ہے اسے وہ خوش اسلوبی سے سرانجام دے سکتے ہیں یا نہیں؟ غرض تمام باتیں دیکھنی پڑیں گی اور اس طرح انتخاب کا معاملہ کلیہ ہماری مرضی پر منحصر ہو گا لیکن لئے وہی جائیں گے جو یا تو گریجوایٹ ہوں یا مولوی فاضل ہوں۔اسی طرح وہ لوگ بھی لئے جاسکیں گے جو دوسرے فنون کے گریجوایٹ ہوں۔مثلاً ایک ڈاکٹر ہے وہ خواہ بی۔اے نہ ہو لیکن اسے گریجوایٹ ہی سمجھا جائے گا۔میرا منشا یہ ہے کہ ان میں سے بعض کو مرکز کے علاوہ باہر بھجوا کر اعلی تعلیم دلوائی جائے اور علمی اور عملی لحاظ 615