تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 617
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 18 نومبر 1938ء اور اس کی زبان یہ کہتے ہوئے گھس جاتی ہے کہ غریبوں کو کوئی نہیں پوچھتا امیروں کو ہی سب پوچھتے ہیں۔تو میں نے تحریک جدید میں یہ اصل رکھا ہے کہ علم پر گزارہ مقرر نہ کیا جائے بلکہ کھانے پینے والوں کی تعداد کو دیکھ کر گزارہ مقرر کیا جائے۔میں نے تحریک جدید کے ماتحت جو گزارے کے نئے اصول مقرر کئے ہیں وہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اسی اصل کے ماتحت ہیں۔میں نے ہدایت دے دی ہے کہ اگر کوئی مجرد ہو تو اسے اتنے روپے دیئے جائیں گے، شادی ہو جائے تو اتنے اور بچے پیدا ہوں تو فی بچہ اتنا الا ونس بڑھایا جائے اور اگر کسی کے بچے نہ ہوں خواہ وہ کتنا ہی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہو وہ ہم سے اس شخص سے کم ہی گزارہ لے گا جو گو اتنا تعلیم یافتہ نہیں مگر اس کے بچے زیادہ ہیں۔اس لئے کہ اس کے کھانے والے کم ہیں اور اس کے کھانے والے زیادہ اور اگر ہم اس کے گزارہ میں ترقی کریں گے تو اسی حساب سے۔مثلا فرض کرو ہم نے تعین روپیہ فی بچه گزارہ مقرر کیا ہوا ہے۔اب جب بھی ہم کسی کا گزارہ بڑھائیں گے اسی اصل پر بڑھائیں گے کہ فی بچہ اتنے روپے زائد کر دو یہ نہیں کہ یونہی سالوں کی زیادتی پر رقمیں بڑھاتے چلے جائیں۔تو میری غرض یہ ہے کہ میں تحریک جدید کے واقفین کو اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دلاؤں وہ اپنی زندگی خدمت دین کیلئے وقف کریں اور ہم اس قربانی کے معاوضہ میں انہیں وہ تعلیم دلائیں جو ان کا سارا خاندان مل کر بھی انہیں تعلیم نہیں دلا سکتا۔گویا ان کا معاوضہ انہیں روپیہ کی صورت میں نہیں بلکہ تعلیم کی صورت میں ملے لیکن تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ ہم سے وہی گزارہ جو اس وقت لے رہے ہیں اور اس میں زیادتی انہی اصول پر ہو جو میں نے بیان کئے ہیں۔ان نوجوانوں میں سے بعض اچھے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان ہیں اور وہ اگر اپنی زندگی وقف نہ کرتے اور یوں کوشش کرتے تو انہیں اچھی اچھی ملازمتیں مل جاتیں۔پس چونکہ انہوں نے ایک قربانی کی ہے اس لئے میری تجویز ہے کہ انہیں ایسی اعلی تعلیم دلا ؤں کہ نہ صرف دینی طور پر بلکہ دنیوی طور پر بھی وہ ہر جگہ عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھے جائیں۔اگر مالی لحاظ سے وہ غریب ہوں تو علم اور عقل اور تجربہ کے لحاظ سے اتنی دولت ان کے پاس ہو کہ وہ کسی جگہ ذلیل نہ ہوسکیں۔اگر کسی انسان کے پاس نہ تو علم ہو اور نہ دولت ہو تو وہ ذلیل ہو جاتا ہے لیکن اگر ان میں سے اگر ایک چیز بھی ہو تو کسی جگہ وہ ذلت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جا سکتا۔پس میں نہیں چاہتا کہ تحریک جدید کے واقفین ذلیل ہوں۔میں یہی چاہتا ہوں کہ انہیں عزت حاصل ہومگر ان کی عزت دولت کی وجہ سے نہ ہو بلکہ علم کی وجہ سے ہوا اور انہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ مقام حاصل ہو کہ دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا دولت مند بھی انہیں ذلیل نہ سمجھ سکے۔میری کوشش یہ ہے کہ اس دور میں سو واقفین زندگی تیار ہو جائیں جو علاوہ مذہبی علم رکھنے کے 617