تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 50
خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1934ء حان الله تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول کرنے میں امرا کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور وہ کیا طریق ہے کہ ہم نیکی حاصل کرنے میں ان سے پیچھے نہ رہیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کیا میں تمہیں ایسی ترکیب بتاؤں کہ اگر تم اس پر عمل کرو تو امرا سے کئی سو سال پہلے جنت میں داخل ہو جاؤ ؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ ! وہ کیا ترکیب ہے؟ آپ نے فرمایا وہ یہ ہے کہ تم ہر نماز کے بعد 33 33 دفعہ تسبیح اور تحمید اور 34 بار تکبیر کہہ لیا کرو۔انہوں نے ایسا ہی کرنا شروع کر دیا مگر معلوم ہوتا ہے جو جذ بہ قربانی اور ایثار کا اس وقت کے غربا میں پایا جاتا تھاوہی امرا میں بھی موجود تھا اُنہوں نے ٹوہ لگائی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور غربا میں کیا بات چیت ہوئی ؟ آخر انہیں پتہ لگ گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک ایسا گر بتایا ہے کہ جس پر عمل کرنے سے وہ اس ثواب کے بھی حقدار ہو جائیں گے جس میں وہ پہلے شریک نہ ہو سکتے تھے اور انہوں نے بھی وہ نسخہ معلوم کر لیا اور پھر اس پر عمل کرنا شروع کر دیا۔یہ دیکھ کر غربا پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ امرا کو منع کر دیں کیونکہ انہوں نے بھی وہی کرنا شروع کر دیا ہے جو آپ نے ہمیں بتایا تھا۔یہ سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جسے خدا تعالیٰ نیکی کرنے کی توفیق دے اسے میں نہیں روک سکتا۔حقیقی جذبہ قربانی یہ ہوتا ہے۔ایسے ہی لوگوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اور ان کے حساس اور اخلاص سے بھرے ہوئے دلوں کو ٹھیس سے بچانے کے لئے میں نے ان کو قربانی کرنے کا طریق بتا دیا ہے۔کئی غربا ایسے ہیں کہ انہوں نے دس روپیہ والی تحریک میں حصہ لے کر سو، دوسو، چار سو دینے والوں سے بھی بہت بڑی قربانی کی ہے۔مثلاً مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض ایسے لوگ جنہوں نے دس روپے دیئے ہیں انہوں نے سارے ماہ کی آمدنی دے دی ہے اور بعض جنہوں نے ہمیں دیئے ہیں ان کی سارے مہینے کی آمدنی ہیں روپے ہی تھی۔گویا انہوں نے ایک مہینہ کی ساری کی ساری آمدنی دے دی۔اب اگر چار سو ماہوار کمانے والا ایک سوروپیہ دیتا ہے یا پانچ سو روپیہ ماہوار کمانے والا ایک سو کی رقم پیش کرتا ہے تو اس کے یہ معنے ہوئے کہ وہ اپنی آمدنی کا1/4 اور 1/5 حصہ دیتے ہیں۔حالانکہ ایسی ضرورتوں کو پورا کرنے کے بعد جو لازمی ہوتی ہیں ان کے پاس زیادہ رقم بچتی ہے۔میں نے غربا اور امرا کا مقابلہ اس رنگ میں بھی کیا ہے کہ جس چیز کے بغیر گزارہ نہیں ہوسکتا اس پر ان کا خرچ کہتا ہوتا ہے؟ مثلاً ایک غریب شخص ہے جس کے کھانے والے پانچ کس ہیں اگر فی کس کے حساب سے ڈیڑھ روپیہ ماہوار کا آٹار کھا جائے تو صرف آٹا ساڑھے سات روپے کا ہوا اور اگر اس کی ماہوار آمد نہیں روپے ہو تو گویا 113 رقم سے زیادہ اس کی آٹے پر صرف ہوتی ہے 50