تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 51
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1934ء اور اگر پکوائی وغیرہ کو مد نظر رکھ لیا جائے تو گویا اس کی آمد میں سے 45 فیصدی رقم خشک روٹی پر خرچ ہو جاتی ہے۔اس کے مقابلہ میں اگر پانچ سو ماہوار آمد والے شخص کے بھی پانچ کس ہی کھانے والے ہوں تو آئے پر اس کی رقم بھی اتنی ہی خرچ ہوگی جتنی ہیں روپے آمد والے غریب کی خرچ ہوتی ہے اور اس طرح امیر کی صرف 1۔5 فیصدی رقم ایسی ضرورت پر خرچ ہوئی جس کے بغیر چارہ نہیں مگر غریب کی ایسی ضرورت پر 45 فیصدی رقم صرف ہوگی۔یہ کتنا بڑا فرق ہے اور غریب کی قربانی کو یہ کتنا شاندار بنا دیتا ہے۔غرض کئی غربا ایسے ہیں کہ میں جانتا ہوں انہوں نے اس تحریک میں حصہ لے کر بظاہر مطلوبہ رقم کو زیادہ نہیں بڑھایا لیکن جماعت کے اخلاص اور جذ بہ قربانی میں بہت بڑا اضافہ کر دیا ہے اور ایسی قیمتی چیز پیش کی ہے جسے ہم خدا تعالیٰ کے سامنے رکھ سکتے ہیں جس طرح ایک موتی کا کیر سمندر کی تہ میں بیٹھ کر ایسا موتی تیار کرتا ہے جو بادشاہ کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے اسی طرح مومن سے اخلاص سے جو کام کرتا ہے وہ موتی سے بھی زیادہ قیمتی ہوتا ہے کیونکہ وہی خدا تعالیٰ کے سامنے رکھا جاتا ہے۔دین کے لئے ہر قربانی کرنے والی جماعت خدا تعالیٰ کے سامنے وہی موتی رکھے گی جو سچا اخلاص دکھانے والوں اور حقیقی قربانی کرنے والوں نے تیار کئے ہوں گے۔پس اعلی قربانیوں کے ذریعہ جو روحانی موتی پیدا ہوتے ہیں وہی جماعت کی زیب وزینت کا موجب ہوتے ہیں۔ایسے موتی تیار کرنے والے بظاہر پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوتے ہیں اور غربت کے ہاتھوں وہ اس حالت کو پہنچے ہوتے ہیں کہ کسی مجلس میں شامل ہو جائیں تو اس مجلس کی زینت نہیں سمجھے جاتے بلکہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مجلس کی حیثیت کو بگاڑنے والے ہیں۔کئی اسی مزاج کے لوگ کہا کرتے ہیں کہ مجلس شوری میں شمولیت کے لئے کئی غربت زدہ زمیندار آجاتے ہیں مگر یا درکھنا چاہئے اس مجلس کے سوا ایک اور بھی مجلس ہونے والی ہے اور اس مجلس میں ہم ہی شامل نہ ہوں گے بلکہ ہمارے باپ دادے اور ہماری آئندہ ہونے والی اولادیں بھی شامل ہوں گی حتی کہ آدم کی اولاد کے جتنے بچے پیدا ہوئے وہ سارے کے سارے شامل ہوں گے، اُس وقت ظاہری لباسوں اور دنیوی وجاہتوں کو پیش نہیں کیا جائے گا بلکہ ایک نئی چیز پیش کی جائے گی وہ چیز جو ایسی جگہ رکھی جاتی ہے کہ ہمیں نظر نہیں آتی یعنی وہ خدا تعالیٰ کے خزانہ میں رکھی جاتی ہے۔کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک کام کا اچھا نتیجہ اس دنیا میں مل رہا ہوتا ہے اور برا ادھر یعنی اگلے جہاں میں محفوظ کیا جا رہا ہے اور کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اچھا نتیجہ اُدھر جمع ہورہا ہوتا ہے اور برا اس دنیا میں مل رہا ہوتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے درمیان میں ایک پردہ پڑا ہو اور کچھ بیلنے لگے ہوں جن میں سے بعض کا منہ پردہ کے ایک طرف ہو اور بعض کا دوسری طرف۔بعض میں 51