تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 49
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 30 نومبر 1934ء ہے جو ثواب حاصل کرنے کی شدید خواہش رکھتے ہیں اور کسی نیک کام میں بھی دوسروں سے پیچھے نہیں رہتا چاہتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک دفعہ غربا نے آپ سے شکایت کی کہ یا رسول اللہ ! ہم جہاد کے لئے جاتے ہیں تو ہمارے امرا بھائی بھی جاتے ہیں، ہم نمازیں پڑھتے ہیں تو وہ بھی پڑھتے ہیں ، ہم روزے رکھتے ہیں تو وہ بھی رکھتے ہیں، ہم ذکر الہی کرتے ہیں تو وہ بھی کرتے ہیں مگر مشترک ضرورتوں اور دینی کاموں کے لئے جب مال دینے کا وقت آتا ہے تو وہ دیتے ہیں ہم نہیں دے سکتے ، وہ زکوۃ دیتے ہیں مگر ہم نہیں دے سکتے ، وہ صدقہ و خیرات کرتے اور غربا کی مدد کرتے ہیں مگر ہم نہیں کر سکتے۔غرض وہ کئی قسم کے ثواب حاصل کرتے ہیں مگر ہم محروم رہتے ہیں اور ان کو ہم پر فوقیت حاصل ہے کیونکہ ہم ثواب کے کاموں میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔یا رسول اللہ ﷺ ہمیں بتائیں ہم کیا کریں تا کہ ان کی طرح ثواب حاصل کر سکیں۔یہ جوش اور یہ سوال بتاتا ہے کہ بچی مخلص جماعتوں میں یہ سوال نہیں پیدا ہوا کرتا کہ فلاں ایسا نہیں کرتا اس لئے ہم بھی ایسا نہیں کرتے بلکہ یہ جوش پایا جاتا ہے کہ فلاں مومن میں فلاں نیکی پائی جاتی ہے ہم وہ نیکی کس طرح حاصل کریں؟ جب کسی جماعت کے اکثر افراد میں یہ جذبہ پایا جاتا ہے تو وہ اعلیٰ معیار کی جماعت کہلاتی ہے لیکن جس قوم میں اس قسم کے سوالات پیدا ہوں کہ فلاں نے غلطی کی تھی اسے نہیں پکڑا گیا پھر ہمیں کیوں گرفت کی جاتی ہے؟ یا یہ کہ فلاں شخص فلاں نیکی اور ثواب کا کام نہیں کرتا تو ہم کیوں کریں؟ وہ تباہ ہو جاتی ہے کیونکہ اس قسم کے عذرات کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس قوم کی نظر آگے بڑھنے والوں اور ترقی کرنے والوں کی طرف نہیں ہوتی بلکہ کمزوروں اور پیچھے رہنے والوں پر ہوتی ہے۔حالانکہ جس قوم نے آگے بڑھنا ہوتا ہے وہ آگے والوں کو دیکھتی ہے اور جس نے پیچھے ہٹنا ہوتا ہے وہ پیچھے رہنے والوں کو دیکھتی ہے اور جس قوم کی نظر آگے کی طرف ہوتی ہے وہی ترقی کرتی ہے اور جس کی نظر پیچھے کو ہوتی ہے وہ تنزل کے گڑھے میں گرتی ہے۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض احمدی کہلانے والے بھی یہ سوال کرتے ہیں کہ فلاں میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے اور فلاں میں یہ تو پھر ہمیں اس کمزوری کی وجہ سے کیوں گرفت میں لایا جاتا ہے؟ گویا ان کے نزدیک دین کی خدمت کرنا اور دین کے لئے قربانی کرنا ایک چٹی ہے جسے اسی صورت میں برداشت کیا جاسکتا ہے کہ ہر ایک شخص کو اس میں شامل کیا جائے نیکی اعلیٰ مقصد نہیں جس کے حصول کے لئے دوسروں سے بڑھنے کی خواہش کی جائے مگر صحابہ رضی اللہ عنہم میں وہ جوش تھا کہ ان میں سے غربانے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ ہم کس طرح ثواب حاصل 49