تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 606
اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 18 نومبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول منی آرڈروں کے ذریعہ آتا ہے اور یہ ہمارے محکمہ کی رپورٹ ہے۔میں اگر غلطی نہیں کرتا تو شاید انہوں نے سوروپیہ ما پانچ سورو پیر روزانہ کی آمد بتلاتی تھی۔گویا ان دنوں پندرہ میں ہزار روپیہ ماہوار ان کی آمد تھی لیکن آج یہ حالت ہے کہ متواتر ان کی طرف سے اپنے لوگوں کے نام یہ اعلان ہوتے ہیں کہ دس روپے ہی بھجوا دیں دس نہیں تو پانچ ہی سہی۔میں جب اس کیفیت کو دیکھتا ہوں تو مجھے وہی نظارہ یاد آ جاتا ہے جو بچپن میں میرے دیکھنے میں آیا کرتا تھا۔یہاں ایک معذور فقیر ہوا کرتا تھا۔اس کی یہ عادت تھی کہ اس کے پاس سے جو شخص بھی گزرتا اس سے ضرور کچھ نہ کچھ مانگتا۔وہ ہمیشہ اپنا سوال روپیہ سے شروع کرتا اور کہتا کہ ایک روپیہ دیتے جاؤ مگر یہ الفاظ کہتے ہی معاً اس کی طبیعت کہتی کہ یہ روپیہ نہیں دے گا اس لئے وہ اس کے ساتھ ہی کہہ دیتا کہ اچھا اٹھنی ہی سہی اور بغیر وقفہ کے اس کے ساتھ زائد کہ دیتا اچھا دونی ہی دے دو۔پھر کہتا کہ چلو ایک ہی آنہ سہی اتنے میں گزرنے والا اس کے پاس پہنچ جاتا اور وہ کہتا دو پیسے ہی دے دو، اچھا ایک پیسہ ہی سہی۔جب وہ آدمی اسے چھوڑ کر آگے گزر جاتا تو کہتا کہ دھیلہ ہی دیتے جاؤ، ایک پکوڑا ہی سہی اور جب وہ دور چلا جاتا تو زور سے آواز دیتا ایک مرچ ہی دیتے جاؤ۔یہی حالت ان لوگوں کی آج ہو رہی ہے مگر وہ وقت ایسا تھا کہ ان سے گورنمنٹ بھی ڈرتی تھی۔چنانچہ گورنمنٹ پنجاب کے بعض ذمہ دار افسروں نے اس وقت ہمارے آدمیوں سے کہا تھا کہ بعض موقعوں پر ہم سمجھتے ہیں کہ احرار زیادتی کر رہے ہیں مگر کوئی اقدام کرنے سے پہلے ہمارے لئے یہ دیکھنا بھی تو ضروری ہے کہ ہمارے اقدام کے نتیجہ میں عام مسلمانوں پر کیا اثر ہو گا۔" دوسری شکست احرار کو نمایاں طور پر یہ ملی کہ قادیان کے متعلق انہوں نے یہ مشہور کر رکھا تھا کہ ہم نے اسے فتح کر لیا ہے اور قادیان کے علاقہ میں احمدیوں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں مگر خدا تعالیٰ نے ان کے اس دعوی کی تردید کا بھی سامان مہیا کر دیا۔گو ہمارے بعض آدمی اس حکمت کو نہیں سمجھے اور انہوں نے بغیر سوچے سمجھے یہ اعتراض کر دیا کہ جماعت کا روپیہ برباد کیا گیا ہے۔حالانکہ روپیہ تو آنے جانے والی چیز ہے۔آج آتا ہے اور کل ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔یہ نہ کسی انسان کے پاس رہا نہ کسی قوم کے پاس رہا نہ کسی ملک کے پاس رہا۔ایک زمانہ میں ایک قوم دولت مند ہوتی ہے اور دوسرے زمانہ میں دوسری قوم دولت مند ہو جاتی ہے۔ایک زمانہ میں ایک ملک دولت مند ہوتا ہے اور دوسرے زمانہ میں دوسرا ملک دولت مند ہوتا ہے۔پس روپیہ آتا اور چلا جاتا ہے مگر جو چیز رہ جاتی ہے وہ نام اور شہرت ہوتی ہے۔آخر غور کرو کہ وہ ساری دنیا کی حکومت جو مسلمانوں کے پاس تھی وہ اب کہاں ہے؟ وہ خلافت جس کے ذریعہ حضرت ابو بکر رضی اللہ 606