تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 605
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 18 نومبر 1938ء دور اول صفائی کے لئے تھا اور اب دور ثانی تعمیر کے لئے ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 18 نومبر 1938ء جیسا کہ میں گزشتہ خطبات میں بیان کر چکا ہوں۔تحریک جدید کا دور اول صفائی کی مثال رکھتا تھا۔اس کی غرض یہ تھی کہ دشمنوں نے احمدیت پر جو حملہ کیا تھا اس کا ازالہ کیا جائے اور دشمن کی حقیقت کو دنیا پر ظاہر کیا جائے۔واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کوشش میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہم کو عظیم الشان کامیابی عطا فرمائی ہے۔اس وقت ہماری سب سے بڑی مخالفت دو گروہوں کی طرف سے ہو رہی تھی۔گو شامل سارے ہی تھے مگر خصوصیت کے ساتھ ایک تو احرار مخالفت کر رہے تھے اور دوسرے حکومت کا وہ حصہ جو اندرونی طور پر برطانیہ کے دشمنوں کا ہمدرد تھا۔وہ اپنے عہدوں کی آڑ لے کر ہمیں نقصان پہنچانا چاہتا تھا۔اس کوشش میں اس نے حکومت کے بعض ہندوستانی یا انگریز افسروں کو بھی جھوٹی کچی شکایتیں کر کے اپنے ساتھ ملالیا تھا۔احرار کا انجام جو ہوا وہ سب پر ظاہر ہے۔خدا تعالیٰ نے ان کی ذلت کے ایسے سامان مہیا کر دیئے کہ اب وہ مسلمانوں میں خود آزادی سے تقریر بھی نہیں کر سکتے کئی سال تو ایسی حالت رہی کہ لاہور میں احرار کا جلسہ ہونا ناممکن ہو گیا۔وہ جلسہ کرتے اور لوگ شور مچادیتے اور ابھی تک بہت جگہ ان کی یہی حالت ہے۔گو وہ اپنی کھوئی ہوئی طاقت واپس لینے کے لئے اب کئی قسم کے بہانے بنانے لگ گئے ہیں۔کہیں فلسطین کے مظلوم مسلمانوں سے ہمدردی کے دعوے کرتے ہیں اور کہیں کشمیر ایجی ٹیشن شروع کرتے ہیں مگر ابھی تک انہیں اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو حافظہ دیا ہے اور وسیع حافظہ دیا ہے۔تم میں سے وہ لوگ جو مایوس تھے اور ہر جماعت میں کچھ نہ کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو مایوسی کی عادت اپنے اندر رکھتے ہیں۔وہ ذرا اپنے حافظہ پر زور ڈال کر احرار کی اس طاقت کا جو انہیں آج سے ساڑھے تین سال پہلے پنجاب میں حاصل تھی اندازہ لگائیں اور جو آج ان کی حالت ہے اس کا بھی اندازہ لگا ئیں ، پھر جو اس وقت ان کے روپیہ کی آمد کا حال تھا اس کا بھی اندازہ لگائیں اور جو آج ان کے روپیہ کی آمد کا حال ہے اس کا بھی اندازہ لگائیں۔گورنر پنجاب نے خود ہمارے آدمیوں سے ان دنوں بیان کیا کہ سینکڑوں روپیہ روزانہ ان کو 605