تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 588 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 588

اقتباس از خطبه جمعه فرمود : 11 نومبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول رکھتے ہیں مگر یہ نظارہ ہمیں تیرہ سو سال کے بعد آج نظر آتا ہے پہلے نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آج خدا تعالیٰ نے ایک نئی عمارت بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔وہ عمارت بن نہیں سکتی تھی جب تک اس کھنڈر کو صاف نہ کیا جاتا۔پس اس نے حکم دیا کہ اس ملبہ کو اٹھاؤ تا نئی عمارت تیار ہو سکے۔غرض ضرر اور نقصان پہلے بھی موجود تھا مگر تیرہ سو سال تک آسمان سے اس کا علاج نہ کیا گیا اور خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اسے دور کرنے کی طرف توجہ نہ کی۔جس کی وجہ یہی ہے کہ کوئی نئی عمارت وہاں بنانے کا موقعہ نہ تھا مگر جب نئی عمارت بنانے کا اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا تو اس نے فورا اپنے کھنڈر کو مٹا دیا اور اس کی شناخت کو پورے زور کے ساتھ اور کھلے الفاظ میں بیان کیا۔غرض حیات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ ایک اہم مسئلہ ہے مگر اس کی حیثیت ایک کھنڈر سے زائد نہیں۔اب سوال یہ ہے کہ اگر اس ملبہ کو ہٹا کر ہم خاموش ہو جائیں اور اس کی جگہ پر نئی عمارت نہ بنائیں تو اللہ تعالیٰ پر یہ الزام آتا ہے کہ اس نے صرف ملبہ کو ہی ہٹانا تھا تو پھر تیرہ سو سال میں کیوں نہ ہٹایا ؟ اللہ تعالیٰ کے اتنا عرصہ خاموش رہنے میں ایک ہی حکمت تھی کہ اس جگہ پر نئی عمارت کی تعمیر کا وقت ابھی نہ آیا تھا لیکن اب اگر ہم اس نئی عمارت کی تعمیر کو نظر انداز کر دیں تو اللہ تعالیٰ پر ضرور یہ الزام آئے گا کہ وہ اتنا عرصہ کیوں خاموش رہا؟ پس نئی عمارت کا بنایا جانا زیادہ اہم ہے اور وہی در اصل مقصود ہے۔وفات مسیح کا مسئلہ گواہم ہے ہے۔یہ ہمارے راستے میں آگیا اس لئے اسے حل کر لیا گیا ورنہ شاید اتنی توجہ اس کی طرف نہ کی جاتی۔اصل مسائل اور ہیں اور وہی امانتیں ہیں جو ہمارے سپرد کی گئیں۔ان مسائل میں سے ایک تو فہم قرآن ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ضمنی گر یہ دنیا میں قائم کیا اور وہ قرآن کریم جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيْنَةٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ (البقرة:186) وہ قرآن جو ہدایتوں اور نشانات کا مجموعہ ہے، جو جھوٹ اور سچ میں فرق اور امتیاز کر دینے والا ہے، جو نور اور تاریکی میں فرق کر دینے کا واحد ذریعہ ہے، وہ جو خدا تعالیٰ تک انسان کو پہنچاتا ہے، اس کا علم اور فہم مٹ گیا تھا۔مسلمان اسے بھلا چکے تھے۔اس کا کچھ درجہ تو احادیث کو دے دیا گیا تھا ، ان احادیث کو جو اگر سچی ہوں تو بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا کلام ہیں مگر موجودہ وقت میں ان میں وضعی بھی 588