تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 589 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 589

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 11 نومبر 1938ء ہیں، ان میں انسانی خیالات کا اثر بھی ہے۔ایک بات کو دس آدمی سنتے اور نوٹ کرتے ہیں مگر سب میں کچھ نہ کچھ اختلاف ہو جاتا ہے۔نوٹ کرتے وقت انسان پوری احتیاط کے باوجود بھی غلطی کر جاتا ہے۔راوی خواہ کتنے بچے ہوں لیکن اگر بات سنتے سنتے کسی کا خیال کسی اور طرف چلا جائے اور کوئی حصہ رہ جائے تو غلطی کا ہو جانا بعید نہیں۔پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بعض راوی بات کو سمجھ ہی نہ سکے ہوں۔پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سننے والے آگے جن سے بیان کریں وہ اچھی طرح سمجھ نہ سکے ہوں یا کسی وقت ان کا دماغ کسی اور طرف متوجہ ہو جائے اور یہی سلسلہ پانچ سات آدمیوں تک چلتا جائے۔تو اس کے نتیجہ میں جو بات بن جائے گی اس میں غلطی کا کس قدرا مکان ہوگا اور مفہوم کس قدر بدل جائے گا۔پس احادیث خواہ وضعی نہ ہوں، کچی ہی ہوں پھر بھی ان میں کئی وجوہ سے غلطی کا امکان ہے اور وہ اس طرح ہدایت کا موجب نہیں ہو سکتیں جس طرح قرآن، جس کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک شعفہ محفوظ ہے مگر قرآن کریم کی کچھ جگہ تو ان احادیث کو دے دی گئی ، کچھ اپنے فلسفہ کو، کچھ اپنے رسوم و رواجات کو اور کچھ اپنی ہوا اور خواہشات کو حتی کہ قرآن کے لئے کوئی جگہ ہی باقی نہ رہی اور وہ اُڑ کر آسمان پر چلا گیا۔اسی واقعہ کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آخری زمانہ میں قرآن کریم کے صرف الفاظ باقی رہ جائیں گے۔لَا يَبْقَ مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسُمُهُ یعنی قرآن باقی نہیں رہے گا۔صرف اس کے الفاظ رہ جائیں گے اور لَا يَبْقَ مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ اسلام باقی نہیں رہے گا صرف اس کا نام رہ جائے گا۔قرآن کریم کی صرف سیاہی باقی رہ جائے گی گویا وہ بالکل ایک مردہ جسم ہوگا اور ظاہر ہے کہ مردہ جسم کسی کام کا نہیں ہو سکتا۔کسی شخص کے ماں باپ مر جائیں تو کیا وہ اس بات پر خوش ہو سکتا ہے کہ ان کا جسم اس کے پاس رہے جب تک وہ بات نہ کریں مشورہ نہ دیں، اگر وہ مذہبی خیالات رکھتے ہیں تو اس کے لئے دعائیں نہ کریں اور اگر دنیوی خیالات کے ہیں تو اس کی دنیوی ترقی کے لئے کوئی سعی اور کوشش نہ کریں؟ اسی طرح جب قرآن کریم کی روح باقی نہ رہی تو وہ جسم بے جان تھا جس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا جا سکتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اس میں پھر روح قائم کی اور قرآن کریم کا وہ علم بخشا جس کی مثال آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد تیرہ سو سال میں نہیں ملتی۔آج جو فہم قرآن کریم کا ہمیں حاصل ہے اس کے مقابلہ میں پچھلی تمام تفاسیر پیچ میں جو علوم خدا تعالیٰ نے ہمیں دیئے ہیں 589