تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 584 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 584

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 4 نومبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول ظرف چھوٹا ہو اور دل ان انوار کو سمیٹ نہ سکے جو نماز روزہ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اترتے ہیں تو وہ ضائع چلے جائیں گے۔تو اللہ تعالیٰ کے انعامات کا حصول بھی ظرف کے مطابق ہوتا ہے۔جتنا ظرف کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرتا ہے اتنی چیز اس کے ظرف میں پڑ جاتی ہے اور جو زائد ہوتی ہے وہ بہ جاتی ہے۔یہ ظرف کی وسعت اور تنگی، حکمت کو سمجھنے اور جڑ کو پکڑنے کے ساتھ تعلق رکھتی ہے جیسے جیسے انسان احکام کی حکمت سمجھتا جاتا ہے اس کے دل کا پیالہ بڑھتا چلا جاتا ہے اور جتنا جتنا وہ احکام کی جڑ کو پکڑتا ہے اتنا ہی اس کے پیالہ میں مضبوطی پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔گویا پیالے کی وسعت ، حکمت کو سمجھنے اور اس کی مضبوطی جڑ کو پکڑنے سے پیدا ہوتی ہے۔حکمت کے سمجھنے سے ظرف وسیع ہوتا ہے اور جڑ کے پکڑنے سے اس میں دوام اور استقلال پیدا ہو جاتا ہے۔جولوگ احکام کی جڑ کو پکڑ لیتے اور حکمت کو سمجھ لیتے ہیں ان کی علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ واعظوں کے وعظ سے مستغنی ہو جاتے ہیں۔انہیں ضرورت نہیں ہوتی کہ واعظ آئیں اور انہیں جگائیں یا حادثات آئیں تو انہیں بیدار کریں۔وہ بغیر واعظوں کے جگانے کے خود ہی ہوشیار ہوتے ہیں اور بغیر حادثات کے بیدار کرنے کے خود ہی بیدار ہوتے ہیں تو حکمتوں کو جاننا اور جڑ کو پکڑنا کامیابی کیلئے نہایت ضروری ہوتا ہے۔جب تک انسان کسی کام کی حکمت نہیں سمجھتا، اس کے دل میں بشاشت پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک انسان اللہ تعالیٰ کے انوار کو جذب بھی نہیں کر سکتا۔( مطبوع الفضل 11 نومبر 1938ء) 584