تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 578
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 4 نومبر 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول تیر اسبق ہمیں رمضان سے یہ حاصل ہوتا ہے کہ کوئی بڑی کامیابی بغیر مشقت برداشت کئے حاصل نہیں ہو سکتی۔جس کا اظہار لَعَلَّكُمْ تَتَّقُون میں کیا گیا ہے۔گویا رمضان جہاں ہمیں یہ بتا تا ہے کہ کوئی قربانی استقلال کے بغیر قبول نہیں ہوتی وہاں ہمیں وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ بغیر مشقت برداشت کئے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی اور وہ شخص جو چاہتا ہے کہ بغیر مشقت برداشت کئے دین و دنیا میں کامیابی حاصل کرلے وہ پاگل اور احمق ہے اور اسے کسی جگہ بھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔آج ہمارے سامنے دنیا کی تین قومیں موجود ہیں جن میں سے دو ہمارے سامنے گریں اور پھر ہمارے سامنے ہی بلند ہوئیں اور ایک جو پہلے کمزور تھی مگر ہماری زندگیوں میں بیدار ہوئی اور اس نے ترقی کی۔ہم میں سے وہ لوگ جو میں چالیس سال کی عمر کے ہیں وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ وہ قومیں ان کی آنکھوں کے سامنے گریں اور پھر ان کی آنکھوں کے سامنے ہی اٹھیں۔وہ اٹلی اور جرمنی ہیں اور جو پہلے کمزور تھی اور دیکھتے دیکھتے بڑھ گئی جاپان ہے۔جرمن قوم ہماری آنکھوں کے سامنے 1918 ء میں گری 1928ء میں اس نے اٹھنا شروع کیا اور 1935ء یا 1938ء میں وہ منتہائے طاقت کو جا پہنچی لیکن کن قربانیوں کے ساتھ ؟ ایسی قربانیوں کے ساتھ جو ایک یا دو نے نہیں بلکہ سارے ملک نے کیں۔ہماری جماعت بھی قربانیاں کرتی ہے لیکن ان قربانیوں کو اگر دیکھا جائے جو جرمن قوم نے کیں تو ایک نقطہ نگاہ سے ہماری قربانیاں ان کے مقابلہ میں بالکل بیچ ہو جاتی ہیں۔گو ایک دوسرے نقطہ نگاہ سے ہماری قربانیاں ان سے بڑھی ہوئی ہیں۔اخلاقی لحاظ سے ہماری قربانیاں بڑی ہیں اور عملی لحاظ سے ان کی قربانیاں بڑی ہیں۔انہوں نے اپنے کھانے پینے ، پہنے اور قریباً زندگی کے ہر عمل پر ایسی حد بندیاں لگائی ہوئی ہیں جن کو سن کر حیرت ہوتی ہے اور کوئی شخص ان حد بندیوں کو نہیں تو ڑسکتا۔گورنمنٹ ایک قانون بنادیتی ہے اور تمام لوگوں کو کیا مرد اور کیا عورتیں اور کیا بچے اس قانون کی اتباع کرنی پڑتی ہے اور رات دن وہ قربانیاں کرتے چلے جاتے ہیں اس لحاظ سے یقیناً ان کی قربانیاں بہت زیادہ ہیں لیکن ایک لحاظ سے ہماری قربانیاں ان سے بڑھی ہوئی ہیں اور وہ اس طرح کہ ان کو طاقت کے زور سے چلایا جاتا ہے اور ہم میں سے ہر شخص اخلاص اور اپنی مرضی سے قربانی میں حصہ لیتا ہے اور اصل قربانی دراصل وہی ہوتی ہے جو اپنی رضا اور اپنی مرضی سے کی جائے۔پس اخلاقی اور مذہبی لحاظ سے ہماری قربانی ان سے بہت زیادہ ہے کیونکہ مرضی سے قربانی کرنا ہی اصل قربانی ہے وہ قربانی جو جبر اور زور سے کرائی جائے وہ قربانی نہیں کہلا سکتی۔578