تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 577
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 4 نومبر 1938ء کا مادہ پیدا کرتا ہے۔پس تم رمضان سے سبق حاصل کرتے ہوئے استقلال والی نیکی اختیار کرو اور اپنی وہ حالت نہ بناؤ کہ کبھی کھڑے ہو گئے اور کبھی گر گئے۔کم سے کم چند نیکیاں تو اپنے اندر ایسی پیدا کرو جن میں تم مستقل ہو اور جن کو تم کسی صورت چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہو۔بے شک انسان کیلئے ہر وقت نیکی کے قدم مختلف ہوتے ہیں اور ہر لحظہ اسے نیکی کرنی چاہئے مگر کم سے کم کچھ نیکیاں ایسی ضرور ہونی چاہئیں جن کے متعلق انسان یہ کہہ سکے کہ میں نے جب سے انہیں کرنا شروع کیا ہے کبھی انہیں نہیں چھوڑا۔55 اگر کم سے کم یہ تین نیکیاں انسان میں پیدا ہو جائیں یعنی عبادت کے ذریعہ خدا تعالٰی کے قرب میں بڑھنا، مالی خدمات کے ذریعہ مخلوق خدا کو نفع پہنچانا اور روزہ کے ذریعہ اپنے جذبات اور احساسات کی قربانی کرنا، تو وہ کہہ سکتا ہے کہ تین ایسی عظیم الشان نیکیاں مستقل طور پر میرے اندر پائی جاتی ہیں جن کے ہوتے ہوئے کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ میرے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت نہیں۔میں نے اپنی مرضی اور اختیار سے کبھی کوئی نماز نہیں چھوڑی، میں نے اپنی مرضی اور اختیار سے کبھی کوئی روزہ نہیں چھوڑا اور کبھی کوئی چندہ کا ایسا موقع نہیں نکلا جس میں میں نے حصہ نہیں لیا۔اگر ان تینوں نیکیوں پر کسی شخص کا قدم مضبوطی سے قائم ہو اور باقی نیکیوں میں اس کا قدم کبھی ڈگمگا بھی جائے تو کم سے کم وہ یہ ضرور یقین رکھے گا کہ میرا ان تین نیکیوں کے عوض جنت میں مکان ضروری ہے اور کوئی نہ کوئی ٹھکانہ میر اوہاں موجود ہے کیونکہ ہر مستقل نیکی جنت کا ایک مکان ہے۔بے شک وہ شخص بہت زیادہ خوش قسمت ہے جس کے جنت میں کئی محل ہوں مگر جس کا ایک محل ہو وہ بھی تو خوش قسمت ہے۔دنیا میں ہزار ہا نیکیاں ہیں جن کا استقلال سے بجالانا جنت میں مختلف محلات تیار کر دیتا ہے مگر ادنی نیکی یہ ہے کہ روزہ کے ذریعہ اپنے جذبات کا ہد یہ خدا تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے ، نماز کے ذریعہ اس کے قرب کو تلاش کیا جائے اور مالی قربانیوں کے ذریعہ بنی نوع انسان کے حقوق ادا کئے جائیں۔اگر کوئی شخص استقلال کے ساتھ بغیر ناغہ، بغیر وقفہ، بغیر تنزل اور بغیر قدم ڈگمگانے کے یہ نیکیاں کرتا ہے اور کرتا چلا جاتا ہے تو ہم اس کے متعلق یقین کر سکتے ہیں کہ اس کے نفس کو اطمینان حاصل ہو گیا اور اس کی موت کی گھڑیاں دبد ہا اور شک کی گھڑیاں نہیں ہوں گی۔یہ تین زبردست شاہد ہیں جو ایک انسان کے ایمان کی شہادت دینے کیلئے کافی ہیں۔دنیوی عدالتوں میں بعض جگہ دو اور بعض جگہ چار گواہ کافی سمجھے جاتے ہیں۔الہی عدالت میں بھی ان تین گواہوں کی گواہی رد نہیں کی جاسکتی بلکہ ان کے ساتھ اگر کوئی چوتھی نیکی بھی ملالی جائے تو یقیناً وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا وہ بہترین ثبوت پیش کرے گا جو کسی قضا میں خطا نہیں جاتا اور کہیں نا کام نہیں ہوتا۔577