تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 576 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 576

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 4 نومبر 1938ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول ادا کئے مگر انہوں نے کہا کہ ان قربانیوں کے وہ نتائج انہیں حاصل نہیں ہوئے جو ایسی قربانیوں کے نتیجہ میں ملا کرتے ہیں اور جن کی وہ امید لگائے بیٹھے تھے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے قربانی تو کی مگر استقلال سے قربانی نہیں کی۔ان کا جوش ایسا ہی تھا جیسے عوام الناس جب کوئی پر جوش تقریر سنتے ہیں تو لڑنے مرنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں مگر تھوڑی دیر کے بعد ہی جب دیکھا جائے تو ان کے دل بالکل ٹھنڈے ہو چکے ہوتے ہیں اور ان میں کوئی گرمی نہیں ہوتی۔اگر ان قربانیوں کا محرک حقیقی اخلاص اور حقیقی جوش ہوتا تو چاہئے تھا کہ وہ اپنی قربانیوں میں بڑھتے چلے جاتے اور کسی واعظ یا کسی یاد دلانے والے کی ضرورت محسوس نہ کرتے کیونکہ حقیقی محبت جوش دلانے سے تعلق نہیں رکھتی اور نہ وہ عارضی ہوتی ہے بلکہ حقیقی محبت استقلال سے تعلق رکھتی ہے۔تم اپنے بچہ سے محبت کرتے ہو مگر کیا تم بچوں سے محبت کرنے کے لئے کسی کے یاد دلانے کی ضرورت محسوس کیا کرتے ہو؟ کیا تم نے کبھی محسوس کیا کہ سال دو سال گزرنے کے بعد اپنے بچہ کی محبت تمہارے دل میں کم ہونی شروع ہوگئی ہو اور تمہیں اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی ہو کہ کوئی واعظ آئے اور تمہیں جگائے اور کہے کہ اپنے بچہ سے محبت کرو؟“ وو۔۔۔پس اگر تمہاری قربانیوں نے کوئی نیک نتائج پیدا نہیں کئے تو سمجھ لو کہ تمہارا خدا تعالیٰ سے عارضی تعلق تھا اور جب تم نے کسی عارضی تحریک کے ماتحت قربانی کی تو اس کا وہ نتیجہ کس طرح پیدا ہوسکتا تھ جو دائمی قربانی کے نتیجہ میں پیدا ہوا کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا گیا کہ فلاں شخص بڑا عبادت گزار ہے کیونکہ اس نے چھت میں ایک رستہ لڑکا رکھا ہے جب نماز پڑھتے پڑھتے اسے نیند آنے لگتی ہے تو رستہ پکڑ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کوئی عبادت نہیں۔عبادت وہی ہے جس میں انسان کو دوام اور استقلال نصیب ہو۔پس بے شک تم میں سے بعض نے بڑی بڑی قربانیاں کیں مگر جب تم نے ان قربانیوں کے بڑے نتائج نہیں دیکھے تو سمجھ لو کہ اس کی وجہ یہی ہے کہ تم میں استقلال نہ تھا جس کے معنی یہ ہیں کہ تم میں حقیقی محبت نہ تھی ورنہ اگر تمہارے اندر حقیقی محبت ہوتی تو یقیناً تمہاری نمازیں اور تمہارے روزے اور تمہاری زکو تیں اور تمہارے حج اور تمہارے چندے بہت زیادہ شاندار اور اعلیٰ نتائج پیدا کرتے اور تم اپنی موت سے پہلے اپنے خدا کو دیکھ لیتے اور تمہاری موت شبہ کی موت نہ ہوتی بلکہ مرتے وقت انتہائی راحت اور آرام کی گھڑی تمہیں نصیب ہوتی، 55 تحریک جدید بھی استقلال سکھانے کیلئے ہے اور رمضان بھی لوگوں کے اندر استقلال 576