تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 575
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد اول 55 اقتباس از خطبه جمعه فرموده 4 نومبر 1938ء رمضان کو تحریک جدید سے ایک گہری مناسبت ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 4 نومبر 1938ء رمضان کو تحریک جدید سے ایک گہری مناسبت ہے۔میں نے صرف ایک کھانا کھانے کا اصل تحریک جدید میں شامل کیا ہے۔اب دیکھو دو کھانے حرام تو نہیں ہیں لیکن میں نے تم کو کہا کہ جو چیز حلال ہے اس کو بھی تم چھوڑ دوتا امیر اور غریب کا فرق دور ہو اور تا خدا ہمیں اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنے روپیہ کو بچاتے ہوئے اسے خدمت دین کیلئے خرچ کر سکیں اور تا ہمیں توفیق ملے کہ ہم اپنے نفس کو عیاشی اور آرام طلبی سے بچا سکیں۔یہی رمضان کی غرض ہے۔رمضان بھی یہی کہتا ہے کہ آؤ تم خدا تعالی کے لئے حلال چیزوں کو چھوڑ دو۔بے شک دوسرا کھانا حرام نہیں ہے مگر ہم نے اسے اس لئے چھوڑ دیا ہے تا اس کے ذریعہ ہم بہت بڑا دینی اور دنیوی فائدہ حاصل کریں۔سادہ غذا کے استعمال کرنے میں نہ صرف دنیوی لحاظ سے فائدہ ہے بلکہ ہماری روح کا بھی اس میں فائدہ ہے اور وہ خلیج جو غر با اور امرا میں حائل ہے وہ اس کے ذریعہ سے بالکل پائی جاتی ہے۔دو دوسرا فائدہ رمضان کا یہ ہے کہ اس کے ذریعہ لوگوں کو استقلال کی عادت ڈالی جاتی ہے کیونکہ نیکی متواتر ایک مہینہ تک چلتی ہے۔پس روزوں سے دوسرا عظیم الشان سبق استقلال کا ملتا ہے اور یہ بھی تحریک جدید سے ایک گہراتعلق رکھتا ہے۔تحریک جدید میں میں نے جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ ہماری قربانیاں عارضی نہیں بلکہ مستقل ہیں۔بے شک قربانیوں کی شکلیں بدل سکتی ہیں مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی وقت یہ کہا جائے کہ اب قربانیوں کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ بغیر مستقل قربانیوں کے کوئی شخص خدا تعالیٰ کو نہیں پاسکتا۔جس شخص کے دل میں بھی یہ خیال آیا ہو کہ میں سانس لے لوں وہ سمجھ لے کہ اس کا ایمان ضائع ہو گیا۔تم میں سے کئی ہیں جنہوں نے بڑی دیانت داری کے ساتھ قربانیاں کیں تم میں سے کئی ہیں جو خدا تعالیٰ کے حضور چلائے اور انہوں نے آہ وزاری کی تم میں سے کئی ہیں جنہوں نے روزے رکھے، تہجد پڑھے ، نوافل ادا کئے اور خدا تعالیٰ کے حضور روئے اور گڑ گڑائے تم میں سے کئی ہیں جنہوں نے چندے دیئے اور اپنے بیوی بچوں کے پیٹ کاٹ کر دیئے تم میں سے کئی ہیں جنہوں نے خود بھوکے اور ننگے رہ کر ز کو تیں دیں اور دوسرے فرائض 575