تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 548
خطبہ جمعہ فرموده 4 فروری 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول حاکموں کے دلوں کو اسلام کی طرف پھیر دے اور وہ دوڑتے ہوئے اسلامی احکام کو دنیا میں قائم کرنے لگ جائیں۔فرض کرو کہ ایک دن ایسا آتا ہے جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ بھی اور وزرا بھی اور امرا بھی اور بڑے بڑے جرنیل بھی سب اسلام قبول کرنے کیلئے تیار ہیںتو بتاؤ کیا ہم اس وقت تیاری کریں گے یا ہمیں آج سے ہی تیاری شروع کر دینی چاہئے؟ پس ہمیں اس عظیم الشان مقصد کیلئے جس کو پورا کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے اسلام کو قائم کیا ہے تیار رہنا چاہئے اور تجربہ سے ان احکام کی باریکیوں کو پہلے سے دریافت کر چھوڑ نا چاہئے اور اپنی قربانیوں سے اسلام کے احکام کو عملی رنگ دیتے چلے جانا چاہئے۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بادشاہوں اور حاکموں کے دلوں کو اسلام کی طرف پھیر دے اور پھر وہ اسلامی احکام کے اس حصہ کی تکمیل شروع کر دیں جس کی تکمیل کرنی اس وقت ہمارے لئے ناممکن ہے۔چندوں کی وصولی کا جو طریق موجودہ حالت میں ہم جماعتی طور پر اختیار کئے ہوئے ہیں۔وہ یقیناً ایسا نہیں کہ اس سے وہ تمام ضرورتیں پوری ہو سکیں جن ضرورتوں کو پورا کرنا اسلامی حکومت کا فرض ہے۔دوسرے موجودہ حالت میں ہمارا بہت سا روپیہ تبلیغ پر خرچ ہو رہا ہے اور ہونا چاہئے۔پس ان وجوہ سے ہم قادیان جیسی چھوٹی بستی میں بھی جہاں صرف چند ہزار نفوس ہیں۔اس اسلامی طریق کو کہ ہر شخص کو کھانا ، مکان اور لباس وغیرہ بہر حال میسر ہو جاری نہیں کر سکتے بلکہ ابھی تو ہماری یہ حالت ہے کہ ہم کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو جھٹ ایک منافق شور مچانے لگ جاتا ہے اور ہمارا کچھ روپیہ اس منافق کی آواز کو دبانے اور اس کے فتنہ کو دور کرنے میں خرچ ہونے لگتا ہے۔پس تحریک جدید کے یہ مطالبات ایسے نہیں کہ جنہیں اب منسوخ کر دیا جائے یا ایک عرصہ کے بعد منسوخ کر دیا جائے۔ہاں ان مطالبات میں تغیر ہو سکتا ہے کیونکہ تفصیلات کے متعلق اسلام نے ہر زمانہ کے اہل الرائے پر معاملہ کو چھوڑا ہے اور اجتہاد کی اجازت دی ہے۔پس اجتہاد بدل بھی سکتا ہے۔لیکن اصول بہر حال یہی رہے گا جو تحریک جدید کے مطالبات میں ہے کہ سادہ زندگی اختیار کرو، سادہ کھانا کھاؤ ، سادہ لباس پہنو اور آرائش و زیبائش کے سامانوں سے الگ ہو جاؤ کیونکہ اسلام کا تقاضا ہم سے یہ ہے کہ ہمارا روپیہ زیورات وغیرہ کی صورت میں بند نہ ہو بلکہ قوم کے فائدہ کے کاموں پر لگا ہوا ہو، اسلام کا تقاضا ہم سے یہ ہے کہ امیر اور غریب میں کوئی فرق نہ رہے، اسلام کا تقاضا ہم سے یہ ہے کہ ہم آپس میں بھائی بھائی بن کر رہیں، اسلام کا تقاضا ہم سے یہ ہے کہ ہماری ایک دوسرے سے ایسی محبت والفت ہو کہ ہم ایک دوسرے سے پرے پرے نہ رہیں اور یہ نہ سمجھیں کہ ہم کچھ اور چیز ہیں اور وہ کچھ اور چیز ہے۔548