تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 549 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 549

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 4 فروری 1938ء میں ایک دفعہ گورداسپور کا فارم دیکھنے گیا۔اس فارم کا جو افسر ہوتا ہے اس کا عہدہ ڈپٹی کلکٹر کے برا بر ہوتا ہے۔اس افسر نے مجھے تمام فارم دکھایا لیکن میں نے دیکھا کہ سڑک پر چلتے چلتے جب زمیندار سامنے آجاتے تو وہ اسے فرشی سلام کر کے کود کر ایک طرف ہو جاتے۔تھوڑی دیر کے بعد میں نے انہیں ہنس کر کہا کہ آپ کے صیغے کا کوئی فائدہ نہیں۔کہنے لگے کیوں؟ میں نے کہا جن زمینداروں کے فائدے کے لئے آپ یہ کام کر رہے ہیں ان کی حالت تو یہ ہے کہ وہ آپ کو دور سے دیکھتے ہی کود کر الگ ہو جاتے ہیں۔بھلا ایسے لوگ آپ سے کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور آپ ان کو کیا فائدہ پہنچا سکتے ہیں؟ چنانچہ اس کے بعد میں نے سرایڈورڈ میکسیکن کو جو اس وقت گورنر پنجاب تھے چٹھی لکھی کہ میں نے آپ کے ایک محکمہ کا اتفاقاً ملاحظہ کیا ہے۔جس کے ماتحت مجھ پر یہ اثر ہے کہ اس محکمہ کا کوئی فائدہ نہیں اگر آپ زمینداروں کو فائدہ پہنچانے کی حقیقی خواہش رکھتے ہیں تو اس کا طریق صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ آپ چھوٹی چھوٹی تنخواہوں والے افسر مقرر کریں جو گاؤں میں جائیں اور زمینداروں سے مل جل کر کام کریں اور انہیں بل چلا کر بتا ئیں اور نئے طریق زراعت کی طرف ان کی طبائع کو مائل کریں اس کا کوئی فائدہ نہیں کہ بڑی تنخواہ والا افسر آپ نے مقرر کر دیا ہے۔جس کی شکل دیکھتے ہی زمیندار کو دکر پرے ہو جاتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے میری اس تجویز کو بہت پسند کیا اور لکھا کہ میں اس پر غور کروں گا۔چنانچہ اب چھوٹے چھوٹے افسر مقرر ہیں جو کھیت میں ہل چلا کر اور بیج بو کر زمینداروں کو دکھا دیتے ہیں۔گو اب بھی اس سے پورا فائدہ نہیں پہنچ رہا مگر بہر حال اب چھوٹے افسر بھی مقرر ہو گئے ہیں اور زمیندار آسانی سے ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں مگر اُس وقت صرف ڈپٹی ہی ڈپٹی ہوتا تھا کوئی چھوٹا افسر نہیں ہوتا تھا۔غرض اسلام یہ چاہتا ہے کہ بنی نوع انسان میں امتیاز کم ہواور محبت اور میل جول زیادہ ہو۔ایک دفعہ ایک نہایت ہی غریب شخص نے میری دعوت کی ، میں گیا۔اس بے چارے کے پاس کوئی سامان نہ تھا۔اس نے ایک چارپائی بچھا دی اور اس پر مجھے بٹھا کر شور با روٹی جو اسے میسر تھا اس نے میرے سامنے رکھ دیا۔اتفاق سے ایک باہر کے دوست بھی اس وقت میرے ساتھ چل پڑے۔جب میں کھانا کھا کر باہر نکلا تو وہ مجھے کہنے لگے کہ کیا آپ ایسے غریب کی دعوت بھی قبول کر لیا کرتے ہیں؟ میں نے کہا اگر میں اس غریب شخص کی دعوت قبول نہ کرتا اور انکار کر دیتا تو آپ ہی یہ اعتراض کرنے والے ہوتے کہ یہ امیروں کی دعوت قبول کر لیتے ہیں غریبوں کی دعوت قبول نہیں کرتے۔مگر اب جبکہ میں نے دعوت قبول کر لی ہے تو آپ کے خیال نے یہ صورت اختیار کر لی ہے کہ ایسے غریب کے ہاں کھانا کھانا تو ظلم ہے۔میں 549