تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 547

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 4 فروری 1938ء سکے کیونکہ اسلام کا منشا یہ ہے کہ دنیا کے ہر انسان کو کھانا ضرور مہیا ہو، پانی ضرور مہیا ہو ، لباس ضرور مہیا ہو اور مکان ضرور مہیا ہو اور جب بھی اسلام کا یہ مقصد پورا ہوگا لازماً امیروں کے ہاتھ سے دولت چھنے گی کیونکہ اگر دولت بعض لوگوں کے ہاتھ میں بے اندازہ طور پر چلی جائے تو حکومت سب کے لئے کھانا، پینا، لباس اور مکان کس طرح مہیا کرسکتی ہے پس جب بھی اسلامی حکومت قائم ہوئی اسے ضرور ایسے تغیرات کرنے پڑیں گے جن کے ماتحت ہر شخص کے لئے کھانا، پینا، کپڑا اور مکان مہیا ہو سکے بلکہ اس زمانہ کی ضرورتوں کے لحاظ سے ایک اور چیز بھی اس میں شامل کرنی پڑے گی اور وہ علاج ہے۔اس زمانہ میں بیماریوں کا علاج اتنا مہنگا ہو گیا ہے کہ میرے نزدیک علاج بھی حکومت کے ذمہ ہونا چاہئے اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے بتایا ہے کہ تعلیم بھی اسی میں شامل ہے۔چنانچہ بدر کے موقعہ پر جب کفار کے بہت سے قیدی آئے تو ان میں سے بعض پڑھے لکھے تھے۔انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم مدینہ کے بچوں کو پڑھا دو تو تمہاری طرف سے یہی فدیہ سمجھا جائے گا۔اور تمہیں اس کے بدلہ میں رہا کر دیا جائے گا۔تو تعلیم ، علاج، کھانا، پینا، کپڑا اور مکان یہ دنیا کے تمام لوگوں کو میسر آنا چاہئے اور اگر کوئی ملک ایسا ہے جس میں ایک شخص تو اپنا علاج کر سکتا ہے مگر دوسرا بیماری سے ہر وقت کراہتا رہتا ہے ایک شخص تو اپنے لئے کپڑا مہیا کر سکتا ہے مگر دوسرا سردیوں اور گرمیوں میں ننگے بدن پھرتا ہے۔ایک شخص تو مکان میں رہتا ہے مگر دوسرے کو اپنا سر چھپانے کے لئے ایک جھونپڑی بھی میسر نہیں تو وہ ملک کبھی جنت نہیں کہلا سکتا بلکہ وہ دوزخ ہے۔ہزاروں آدمی ہمارے ملک میں ایسے ہیں جو بڑھے ہو جاتے ہیں۔ان کی بیوی پہلے فوت ہو چکی ہوتی ہے اور ان کا کوئی بچہ نہیں ہوتا جو ان کی خبر گیری کرے وہ اکیلے اپنی کوٹھری میں دن رات پڑے رہتے ہیں۔نہ انہیں روٹی دینے والا کوئی ہوتا ہے، نہ انہیں پانی دینے والا کوئی ہوتا ہے، نہ ان کی بلغم اٹھانے والا کوئی ہوتا ہے، نہ ان کا علاج کرنے والا کوئی ہوتا ہے۔یہ کتنے غضب اور کتنی لعنت کی بات ہے اس قوم کے لئے جس قوم میں ایسے افراد موجود ہوں۔مگر یہ تمام باتیں اسلامی طریق عمل اختیار کرنے سے ہی دور ہو سکتی ہیں اس کے بغیر نہیں اور اس وقت لازمی طور پر ان ٹیکسوں پر حکومت کا گزارہ نہیں ہو سکے گا جو ٹیکس حکومت کی طرف سے اب موصول کئے جاتے ہیں۔پس اس وقت اسلامی حکومت کو بعض نئے ٹیکس لگانے پڑیں گے اور امرا سے زیادہ روپیہ وصول کرنا پڑے گا جیسا کہ اسلامی اصول اس بارے میں موجود ہیں اور پھر اس روپیہ سے غربا کی خبر گیری کرنی پڑے گی لیکن جب تک اسلامی حکومتیں قائم نہیں ہوتیں ہمیں اس مقصد کے لئے تیاری تو کرنی چاہئے۔ہمیں کیا پتہ کہ کب خدا تعالی 547