تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 537 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 537

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرمودہ 4 فروری 1938ء بعض کھانے چٹنیوں کی قسم کے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی بہت سے کھانے پکتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں ہمارے ہندوستان کے ہی بعض گوشوں میں مہمان نوازی کی تعریف یہ مجھی جاتی ہے کہ میں تمہیں، چالیس چالیس کھانے پکائے جائیں۔مجھے اپنی عمر میں صرف ایک دفعہ ایسی دعوت میں شریک ہونے کا موقع ملا ہے۔حضرت خلیفہ اصبح الاول رضی اللہ عنہ کے وقت کی بات ہے کہ ہم بعض دوست ایک وفد کی صورت میں ہندوستان کے مختلف مدارس دیکھنے کے لئے گئے۔جب دورہ کرتے ہوئے ہم ایک شہر میں پہنچے تو وہاں ایک پرانی وضع کے نہایت مخلص احمدی تھے۔انہوں نے میرے آنے کی خوشی میں دعوت کی اور اس خیال سے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہوں ، میرے اعزاز میں انہوں نے بہت سے کھانے پکائے۔میں نے وہ کھانے گئے تو نہیں مگر یہ مجھے یاد ہے کہ جو کھانے میرے دائیں بائیں رکھے گئے تھے وہ اتنے تھے کہ اگر میں اپنے دونوں ہاتھ پھیلا بھی دیتا تو وہ دائیں بائیں کی طشتریوں کو ڈھانپ نہیں سکتے تھے اور جو میرے سامنے کھانے پڑے تھے وہ اتنے زیادہ تھے کہ اگر میں لیٹ بھی جاتا تو تب بھی بعض کھانے دور رہ جاتے۔میں نے جب اس قدر کھانے پکے ہوئے دیکھے تو ایک دوست سے میں نے کہا کہ یہ کیا بات ہے؟ اتنے کھانے انہوں نے کیوں تیار کئے ہیں؟ اس پر اس نے چپکے سے میرے کان میں کہا کہ آپ اس امر کا یہاں ذکر نہ کریں کیونکہ اس طرح ان کی دل شکنی ہوگی۔یہاں یہ رواج ہے کہ جب کسی کے اعزاز میں دعوت کی جاتی ہے تو خاص طور پر بہت زیادہ کھانے پکائے جاتے ہیں۔پس جو کھانا آپ نے کھانا ہے کھا لیں کچھ کہیں نہیں۔اب یہ بھی دعوت کا ایک طریق ہے تو زیادتی میں بھی سادگی کو مد نظر رکھا جا سکتا ہے کیونکہ ایک سے زائد کھانے کے معنے دو بھی ہو سکتے ہیں، تین بھی ہو سکتے ہیں ، دس بھی ہو سکتے ہیں، ہمیں بھی۔پس ہمیں یہ بات مد نظر رکھنی چاہئے کہ سادگی اصل حکم ہے اور ترفہ ایک عارضی اجازت اور عارضی اجازت ہر حالت میں اصل حکم کے تابع رہنی چاہئے۔حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ایک امیر میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مولوی صاحب ہاضمہ کی کوئی اچھی سی دوائی مجھے دیں تا کہ میں کھانا پیٹ بھر کر کھا سکوں۔میری یہ حالت ہے کہ بس لقمہ دو لقمے کھاتا ہوں اور پیٹ بھر جاتا ہے۔آپ فرماتے کہ ایک دن مجھے اس امیر کے دستر خوان پر جانے کا اتفاق ہوا۔میں نے دیکھا کہ کھانے کی چالیس پچاس طشتریاں اس کے سامنے آئیں اس نے ہر تھالی میں سے ایک دو لقمے لئے اور چکھا کہ ان سب میں سے اچھا کھانا کون سا ہے؟ پھر دو چار کھانے جو اسے پسند آئے وہ اس نے الگ 537