تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 536

خطبہ جمعہ فرمودہ 4 فروری 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول سوال ہوگا کہ اس حکم کو کامل طور پر جاری کرنے میں اگر کوئی روک تھی تو اس کو کب دور کیا جائے گا ؟ اس کا میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام نے بطور شریعت سادہ زندگی کی کوئی تعریف نہیں کی۔اسلام نے بطور اصول یہ تو بتایا ہے کہ سادہ زندگی اختیار کرو مگر یہ تعریف نہیں کی کہ سادہ زندگی کس کو کہتے ہیں۔پس یہ بحث تو کی جاسکتی ہے اور ہر وقت کی جاسکتی ہے کہ سادہ زندگی کی تعریف کیا ہے اور آیا فلاں احکام جو سادہ زندگی اختیار کرنے کے ضمن میں دیئے گئے ہیں وہ سادہ زندگی سے تعلق رکھتے ہیں یا نہیں رکھتے یا بعض افراد یا بعض قومیں آپس میں مل کر فیصلہ کر لیں کہ فلاں بات بھی سادہ زندگی کے اصول میں شامل کر لینی چاہئے لیکن اصولی طور پر اس بات پر بحث نہیں ہو سکتی کہ آیا سادہ زندگی اختیار کرنی چاہئے یا نہیں ؟ کیونکہ یہ خالص اسلام کا حکم ہے اور قرآن کی بیسیوں آیات اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیسیوں احکام اس معاملہ میں موجود ہیں جو ہمارے لئے خضر راہ اور ہدایت نامہ ہیں اور پھر ہماری عقل بھی اس طرف رہنمائی کرتی ہے۔اگر ہم نے دنیا میں اس اسلامی تہذیب کو قائم کرنا ہے جو اس دنیا میں بھی اسی طرح بنی نوع انسان کے لئے بہشت سکھینچ کر لاتی ہے جس طرح اگلے جہان میں بہشت ہے تو لازماً اس معاملہ میں آہستہ آہستہ ہمیں بعض اور قیود بھی بڑھانی پڑیں گی یہاں تک کہ اسلام کے منشا کے مطابق سادہ زندگی کی روح دنیا میں قائم ہو جائے۔بے شک ایک کھانا کھانا چاہئے یا زیادہ کی بھی اجازت ہو۔یہ خود اپنی ذات میں پورے طور پر سادہ زندگی کے مفہوم کو ادا کرنے والے نہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ آپ ایک کھانا کھانے پر اکتفا کیا کرتے تھے۔الا ماشاء اللہ خاص دعوتوں یا عیدین کے موقعہ پر آپ نے ایک سے زائد کھانے کھائے تو یہ اور بات ہے۔چنانچہ ان قیود سے عیدوں کو میں نے پہلے ہی مستی کر دیا تھا کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب یہ سوال پیش ہوا تو آپ نے عیدین کے متعلق فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کیلئے کھانے پینے کے دن رکھے ہیں۔تو میں نے سادہ طعام کے متعلق جو ہدایت دی تھی اس میں یہ اصول مقرر کیا تھا کہ عیدوں پر ایک سے زائد کھانا کھانے کی اجازت ہے۔ہاں لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی عقل اور سمجھ کے مطابق پھر بھی سادگی کو مدنظر رکھیں کیونکہ جب سادہ زندگی اصل کے طور پر ہے تو اس میں وسعت پیدا کرتے وقت بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ہمارے پنجاب میں اچھی اچھی دعوتوں کے موقعہ پر صرف چار پانچ کھانوں پر لوگ کفایت کرتے ہیں لیکن انگریزوں میں جہازوں اور ہوٹلوں میں عام کھانے ہی سات آٹھ سکتے ہیں اور ان کے رات کے ڈنر میں تو پندرہ پندرہ سولہ سولہ کھانے ہوتے ہیں۔گو وہ سارے پچکے ہوئے نہیں ہوتے بلکہ 536