تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 538

خطبہ جمعہ فرمودہ 4 فروری 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول کر لئے اور ان میں سے تھوڑے سے لقمے لینے کے بعد کہنے لگا کہ دیکھئے مولوی صاحب اب بالکل کھایا نہیں جاتا۔حضرت خلیفہ اسی اول رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ میں نے اسے کہا کہ یہ کوئی بیماری نہیں کیونکہ جو چکھنے کے لقمے ہیں وہ بھی تو آپ کے معدہ میں ہی گئے ہیں اور اس سے زیادہ کوئی تندرست آدمی نہیں کھا سکتا۔پس میں اس بارے میں جہاں پھر سادگی کی تاکید کرتا ہوں وہاں میں بعض دوستوں کی متواتر تحریک پر وہ استثنیٰ بھی کر دیتا ہوں۔ایک تو عیدوں کی طرح جمعہ کا بھی میں استثٹی کرتا ہوں اور اس دن ایک سے زائد کھانا کھانے کی لوگوں کو اجازت دیتا ہوں مگر اسی حد تک کہ اگر اس دن کوئی دوسرا کھانا کھا لے تو جائز ہوگا یہ ہیں کہ ضرور اسی دن ایک سے زائد کھانے پکائے جائیں اور اس اسٹی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دن کئی کئی کھانے پکنے لگ جائیں۔پس جمعہ کا میں استنشی کرتا ہوں اور اس دن دو کھانوں کی اجازت دیتا ہوں کیونکہ جمعہ کے متعلق بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ ہماری عید ہے۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ چھٹیوں کے دنوں میں چونکہ رشتہ دار وغیرہ جمع ہوتے ہیں اور ان کی خاص طور پر خاطر مدارت کرنی پڑتی ہے اس لئے چھٹی کے دن بھی اس قید کو اڑا دیا جائے۔میرے لئے یہ سوال مشکل پیدا کر رہا ہے کہ میں اتوار کو چھٹی قرار دوں یا جمعہ کو؟ کیونکہ اصل سوال یہ ہے کہ چونکہ چھٹی کے دن رشتہ دار ایک دوسرے کے ہاں ملاقات کے لئے آتے ہیں اس لئے اس خوشی کے موقعہ پر کسی قدر خاطر مدارات کے لئے یہ اجازت ہونی چاہئے کہ ایک سے زائد کھانے پکائے جائیں۔اب ایک طرف چونکہ سرکاری دفاتر میں اتوار کو چھٹی ہوتی ہے اس لئے اس اجازت کے ماتحت اتوار کومستی کرنا چاہئے لیکن دوسری طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے لئے عید کا لفظ فرمایا ہے اس لئے اس رخصت کا حقدار وہ دن ہے۔اگر شریعت اور موجودہ حالات کا لحاظ رکھا جائے تو ہفتہ میں دو دن مستثنیٰ کرنے پڑتے ہیں لیکن ہفتہ میں دو دن کا استنشی بہت زیادہ ہے اور اس طرح سہولت بہت وسیع ہو جاتی ہے اس لئے میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کا ادب ملحوظ رکھتے ہوئے یہی مناسب سمجھا ہے کہ ہم چھٹی کا دن جمعہ کو ہی قرار دیں گو عملاً ہمارے ملک میں جمعہ کو چھٹی نہیں ہوتی لیکن زمیندار، تاجر اور جولوگ ایسی جگہوں پر ملازم ہیں جہاں جمعہ کے دن چھٹی ملتی ہے اب بھی جمعہ کو چھٹی کرتے ہیں اور کر سکتے ہیں اور دوسرے لوگ جنہیں اتوار کو چھٹی ملتی ہے وہ بھی اگر چاہیں تو اس بات کی عادت ڈال سکتے ہیں کہ اتوار کو اپنے آرام کا وقت رکھ لیں اور جمعہ کی شام کو اپنے کام کاج سے فارغ ہو کر اپنے رشتہ داروں سے مل لیں۔گویا رشتہ داروں کی ملاقات 538