تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 531
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 21 جنوری 1938ء نہیں کر سکتیں اسی طرح روحانی عبادتیں یا جسمانی قربانیاں جو انسان ماضی میں کرتا ہے اور ان پر توکل کر کے چاہتا ہے کہ مستقبل کی قربانیوں سے آزاد ہو جائے۔وہ اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتیں وہ اگر ایسی بے وقوفی کرے گا تو یقیناً اپنے آپ کو ہلاک کرنے والا ہوگا۔وہ جو خدا کی جماعتوں میں داخل ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ ہر آن انہیں اپنا چہرہ دکھانا چاہتا ہے اور خدا تعالیٰ اپنا چہرہ ہمیشہ قربانیوں کے آئینہ میں ہی دکھاتا ہے۔میں نے گزشتہ سالوں میں کہا تھا وہ شخص جو یہ خیال کرتا ہے کہ میں موت سے پہلے کسی وقت بھی قربانیوں سے آزاد ہو سکتا ہوں وہ سمجھ لے کہ اس کا ایمان کمزور ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی فوج کا سپاہی بننے کے قابل نہیں ہے۔مجھے افسوس ہے کہ جہاں جماعت کے ایک حصہ نے میری اس بات کو انہی معنوں میں سمجھا ہے جن معنوں میں کہ میں نے اسے بیان کیا تھا وہاں ایک حصہ جماعت کا ایسا ہے جس نے یہ خیال کیا کہ شاید میں یہ باتیں صرف اس وقت کے لئے اور ان قربانیوں کے لئے جوش پیدا کرنے کی خاطر کہہ رہا ہوں جن کا اس وقت مطالبہ کیا گیا تھا اور وہ اپنے دلوں میں یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ شاید ہماری تین سال کی قربانیاں جو صرف چند حقیر رقموں پر مشتمل تھیں وہ زمین و آسمان کا نقشہ بدل ڈالیں گی اور ان چند روپوں سے وہ کام ہو جائے گا جو تئیس سال کی ہر قسم کی قربانیوں کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کمان میں صحابہ رضی اللہ عنہم کر سکے تھے۔پس جو شخص چاہتا ہے کہ ایمان پیدا کرے اس کو اپنی لذت اور اپنی راحت خدا میں بنانی چاہئے اور ذرا بھی امید نہیں کرنی چاہئے کہ کوئی ایک قربانی یا دوسری قربانی اس کے حقوق کو ادا کرے گی کیونکہ حقوق قربانیوں سے ادا نہیں ہوتے بلکہ قربانیوں کے متواتر اور مستقل ارادوں سے ادا ہوتے ہیں۔پس جو کچھ میں نے کہا تھا وہ کسی کو جوش دلانے کیلئے نہیں کہا تھا بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایمان کی سلامتی کیلئے متواتر قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے اور موت سے پہلے کوشش کے چھوڑ دینے کا خیال اندرونی بے ایمانی کی علامت ہے اور ایسے شخص کے لئے خطرہ ہے کہ اگر آج اس کا ایمان سلامت ہے تو کل سلامت نہ رہے اور مرنے سے پہلے کسی وقت وہ ٹھوکر کھا جائے اور اپنے انعامات جو پہلی قربانیوں سے اس نے جمع کئے تھے اس کی اس غفلت کی وجہ سے کسی اور مومن کو مل جائیں جو کہ پہلے ٹھو کر کھایا ہوا تھا لیکن مرنے سے پہلے خدا کی طرف متوجہ ہو گیا کیونکہ نتائج انسان کی زندگی کے کاموں کے مطابق نہیں ہوتے بلکہ انسان کے انجام کے مطابق ہوتے ہیں۔یہ مت خیال کرو کہ یہ ظلم ہے کہ خدا انسان کی زندگی کے کاموں کو تو نظر انداز کر دیتا ہے لیکن آخری گھڑیوں کے کاموں کو قبول کر لیتا ہے کیونکہ آخری گھڑی کی حالت در حقیقت پہلے کاموں کا نتیجہ ہوتی 531