تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 532 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 532

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 21 جنوری 1938ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول ہے۔وہ جس کی پہلی زندگی اچھی نظر آتی ہے لیکن اس کا انجام خراب نظر آتا ہے۔اس کا انجام اس لئے خراب ہوتا ہے کہ اس کی پہلی زندگی گو بظاہر خوشنما تھی لیکن خدا کی نگاہ میں وہ گندی تھی۔تم کبھی بھی یہ امید نہیں کر سکتے کہ گوبر کی گولیوں پر کھانڈ چڑھا کر مریضوں کو شفا دے سکو یا بھوکوں کے پیٹ بھر دو کیونکہ باہر کی کھانڈ اندر کے خبث کا علاج نہیں ہو سکتی۔پس وہ جس کا انجام خراب ہوتا ہے یا کمزور نظر آتا ہے۔وہ اسی لئے خراب ہوتا ہے اور اسی لئے کمزور ہو جاتا ہے کہ اس کی پہلی زندگی بناوٹی تھی اور منافقانہ تھی اور خدائے علیم و خبیر جو دلوں کا بھید جاننے والا ہے اس نے نہ چاہا کہ یہ غیرمستحق حق والوں کا حق لے جائے۔پس اس نے مرنے سے پہلے، اگر یہ ایمان ضائع ہو جانے کا مستحق تھا، تو اس کے ایمان کو ضائع کردیا اور اگر یہ ایمان کے کمزور ہونے کا مستحق تھا تو اس نے اس کے ایمان کو کمزور کر دیا۔یہی حال اس کا ہے جس کا نتیجہ اس کے بر عکس ہوتا ہے یعنی اس کی پہلی زندگی تو خراب ہوتی ہے لیکن اس کا انجام اچھا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے انجام کو اس لئے اچھا نہیں کرتا کہ وہ بغیر کسی مقصد کے ایک شخص کے ساتھ رعایت کرنا چاہتا ہے بلکہ اس لئے اچھا کرتا ہے کہ دوسرے شخص کے اعمال یا اس کا ایمان گو بظاہر کمزور نظر آتا ہے لیکن اس کے دل کی گہرائیوں میں کوئی ایسا جو ہر ہی تھا، کوئی ایسی قابلیت چھپی ہوئی تھی، کوئی ایسی محبت کی ٹیس اٹھ رہی تھی جس کو خدا تعالیٰ نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔پس اس نے اس کی موت کو پیچھے کر دیا اور اس وقت تک ملک الموت کو آنے نہ دیا جب تک اس کا مخفی جو ہر ظاہر نہ ہو گیا اور اس کی چھپی ہوئی محبت عیاں نہ ہو گئی۔پس خدا نے بلا بہ اس کی حالت کو نہیں بدلا بلکہ جو قابلیتیں اس کے اندر مخفی تھیں اور جو درد محبت اس کے اندر نہاں تھا اسی کو ظاہر کر کے انصاف قائم کیا ہے نہ کہ رعایت۔پس انجام کے مطابق ہی خدا کے بدلے ملتے ہیں اور اسی طرح ہونا چاہئے۔یہی انصاف ہے اور اسی میں عدل ہے اور یہی رحمت کا تقاضا ہے۔پس جس کو خدا تعالیٰ توفیق دیتا ہے کہ اس کا قدم قربانیوں میں آگے ہی بڑھتا چلا جائے۔خدا کا فیصلہ اس کے ایمان پر مہر لگاتا چلا جاتا ہے اور ہم اس کی اس ترقی کو دیکھتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ یہ اپنی منزل مقصود پر پہنچ کر رہے گا لیکن وہ جو چلتا ہے اور کھڑا ہو جاتا ہے اور قربانی کرتا اور پھر آسمان کی طرف بدلہ کے لئے نگاہ اٹھاتا ہے اور اپنی موت سے پہلے ہی اپنے پھل حاصل کرنا چاہتا ہے یا تھک کر بیٹھ جاتا ہے یا پہلے سے اس کا قدم سست ہو جاتا ہے، جیسا کہ اس سال بعض جماعتوں اور بعض افراد کی حالت سے نظر آرہا ہے، اس کا پھل اس کا خدا نہیں بلکہ اس کی دنیا ہے۔دنیا تو شاید اس کو مل جائے مگر خدا اس کو نہیں ملے گا اور کبھی نہیں ملے گا“۔مطبوع الفضل 25 جنوری 1938ء) 532