تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 516

اقتباس از تقریر فرموده 28 مارچ 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول اور وہ ٹہلتے ٹہلتے کھجوریں کھا رہے تھے۔چلتے چلتے وہ حضرت عمرؓ کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہ رور ہے ہیں۔گھبرا کر پوچھا کہ عمر یہ رونے کا کون سا مقام ہے؟ اسلام کو فتح حاصل ہوئی ہے اور آپ رو ر ہے ہیں! حضرت عمر نے کہا تم کو پتہ نہیں دشمنوں نے دوبارہ حملہ کیا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔انہوں نے جب یہ سنا تو کہنے لگا عمر! تمہاری عقل بھی خوب ہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں تو پھر ہمارے اس دنیا میں رہنے کا کیا فائدہ ہے؟ یہ کہہ کر انہوں نے کھجور کی طرف دیکھا اور کہا کہ میرے اور جنت میں کیا چیز حائل ہے؟ صرف یہ کھجور! یہ کہتے ہوئے انہوں نے کھجور کو زمین پر پھینک دیا اور کہا کہ عمر رو کیوں رہے ہو؟ جہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں وہاں ہم بھی جائیں گے۔چنانچہ تلوار لے کر دشمنوں پر ٹوٹ پڑے اور اس قدر جوش سے لڑے کہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر شہید ہو گئے۔بعد میں صحابہ نے ان کی نعش کو دیکھا تو ان کے جسم پر ستر زخم تھے۔تو صحابہ یہ مثال پیش کیا کرتے تھے:۔فَمِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ (الاحزاب :24) کی کہ بعضوں نے اپنے فرائض کو جو ان پر خدا تعالیٰ کی طرف سے عائد ہوتے تھے ادا کر دیا اور بعض یقین اور صدق سے بیٹھے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ان کا وجود بھی اسلام کی خدمت کے لئے کام آئے گا۔یہ گواہی ہے جو صحابہ کے متعلق خدا تعالیٰ نے دی۔اس کو اپنے سامنے رکھو اور پھر غور کرو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللهِ أَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُونَ (القت: 4) خدا تعالیٰ کے حضور یہ سخت نا پسندیدگی کی بات ہے کہ تم کہتے ہومگر کرتے نہیں۔فرماتا ہے بعض چیزیں جبری ہوتی ہیں اور بعض طوعی۔جبری تو بہر حال پوری کرنی پڑیں گی اور جو طوعی ہوں ان کے متعلق ہم یہ کہتے ہیں کہ یا تو وعدہ ہی نہ کیا کرو اور اگر وعدہ کرو تو پھر اسے پورا کرو چاہے تمہیں کس قدر قربانی کرنی پڑے۔ہندوؤں میں ایک قصہ مشہور ہے۔وہ ہے تو قصہ مگر ہم اس سے بہت کچھ سبق حاصل کر سکتے ہیں۔کہتے ہیں کہ کوئی راجہ تھا جس کے ہاں اولاد نہیں ہوتی تھی۔ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ تین خدا ہیں: بر ہما، وشنو اور شوجی۔برہما پیدا کرتا ہے، وشنورزق دیتا ہے اور شوجی مارتا ہے۔اس تقسیم کی وجہ سے ہندوؤں میں برہما کی پوجا نہیں کی جاتی۔کیونکہ وہ سمجھتے ہیں پیدا تو ہم ہو ہی گئے ہیں اب ہمیں روٹی کی ضرورت ہے اور اس بات کی ضرورت ہے کہ زندہ رہیں۔پس وہ وشنو اور شوجی کی پوجا کرتے ہیں برہما کی نہیں کرتے لیکن اس 516