تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 488

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 3 دسمبر 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول علم لئے گئے تھے اور میرا خیال تھا کہ ہر سہ ماہی پر ہم مزید نوٹر کے لیتے جائیں گے اور اگر اس میں کامیابی | ہوتی تو اس وقت اتنی طالبعلم ہوتے مگر اس وقت ہیں صرف ہیں اور اسکی وجہ یہ ہے کہ مجھے جو مشورہ دیا گیا تھا وہ بیچ نہ تھا اور جتنے عرصہ میں مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ لڑ کے اپنی روزی کمانے کے قابل ہوسکیں گے وہ غلط تھا کیونکہ وہ لڑکے ابھی تک بھی اپنی روزی کمانے کے قابل نہیں ہو سکے۔دراصل اس قابل ہونے کیلئے تین چار سال درکار ہیں اور یہ طالب علم جوں جوں کام سیکھتے جائیں گے اپنی روزی کمانے کے قابل ہوتے جائیں گے اور اس طرح بیواؤں اور یتیموں کا سوال خود بخود حل ہوتا جائے گا اور مبلغ بھی تیار ہوتے جائیں گے۔ان سب باتوں پر غور کر کے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس سکیم کو کم سے کم سات سال تک ممتد کیا جائے اور اس عرصہ میں ہم کوشش کریں گے کہ یہ کام اپنا بوجھ آپ اٹھا سکیں اور یہ ایک ایسی بات ہے کہ اگر ہم اس میں کامیاب ہو جائیں تو یہ ہمارا اتنا بڑا کارنامہ ہو گا کہ جس کی کوئی مثال موجودہ زمانہ میں نہیں مل سکے گی۔اس میں شک نہیں کہ دیال باغ وغیرہ میں ایسی سکیمیں کامیاب ہو چکی ہیں مگر وہ کوششیں صرف ایک گاؤں کے متعلق ہیں اور ان پر لاکھوں روپیہ خرچ ہو رہا ہے مگر ہم نے ساری دنیا میں مبلغ بھیجنے ہیں ایک گاؤں کی اصلاح کرنا اور بات ہے اور ساری دنیا میں مبلغین کا پھیلانا اور اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص کہے کہ دیکھو فلاں عورت تو اپنے گھر میں بڑے اطمینان کے ساتھ روٹیاں پکا لیتی ہے اور تم جلسہ سالانہ پر روٹیوں کے انتظامات کیلئے اس قدر گھبراہٹ کا اظہار کرتے ہو۔آگرہ کے پاس ایک گاؤں خاص سکیم کے ماتحت نیا بنا لینا اور ساری دنیا میں تبلیغ کے لئے آدمی تیار کرنا اور پھر ان کی علمی اور اخلاقی نگرانی کرنا ان دونوں باتوں میں بہت فرق ہے۔اس وقت امریکہ میں کئی ایسے سکول ہیں جو دیال باغ کی طرح کام کر رہے ہیں مگر ہم نے تو دنیا میں مبلغین پھیلانے ہیں اور پھر ایک بہت بڑی دقت یہ ہے کہ ہم وہ لوگ ہیں جو تجارتی اور صنعتی کاموں سے واقف نہیں ہیں میں خود جو اس کام کو چلا رہا ہوں زراعت پیشہ ہوں اور نامعلوم سینکڑوں ہزاروں سال سے ہمارا خاندان تجارتی کاموں سے بے تعلق چلا آرہا ہے۔اس لئے اگر خدا تعالیٰ ہمیں اس میں کامیاب کر دے تو یہ ایک ایسا کام ہو گا جس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکے گی مگر یہ ساری کامیابی توجہ، دیانت داری اور تعاون چاہتی ہے اور مجھے افسوس ہے جماعت میں تعاون کی روح پیدا نہیں ہوئی۔عورتوں کے متعلق میں نے ایک سکیم بنائی تھی اور اس کے لئے خورد و پیہ دیا تھا اور لجنہ کے ذریعہ کوشش کی تھی کہ غریب عورتیں کام کریں اور میں جانتا ہوں کہ یہاں بہت سی عورتیں ایسی ہیں کہ جن کو وہ کام کرنا چاہئے تھا مگر میں نے دیکھا ہے کہ وہ گزارہ کیلئے مانگتی توتھیں مگر کام یہ کہہ کر کرنے سے انکار کر دیتی تھیں کہ 488