تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 487
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 3 دسمبر 1937ء یقین ہے کہ ایسا فنڈ قائم ہو جائے کہ سب کام آسانی سے چل سکیں اور مزید چندوں کی بھی ضرورت نہ رہے اور ہم بغیر چندوں کے ہی اس قابل ہو سکیں کہ ایک طرف تو بیرونی ممالک میں ایسے مبلغ بھیج سکیں ، جو واقف دین ہوں اور دوسری طرف سینکڑوں ایسے لو ہار، ترکھان اور چمڑے کا کام کرنے والے نو جوان پیدا کردیں جو دین کے عالم بھی ہوں اور جو ہندوستان کی سب منڈیوں میں پھیل جائیں اور اپنا کام کرنے کے علاوہ وہاں قرآن کریم اور احادیث کا درس بھی دے سکیں اور تبلیغ بھی کریں اسلام کی تبلیغ در اصل اسی طرح ہوئی ہے۔ان بزرگوں کے اگر ناموں کو دیکھا جائے جنہوں نے اسلام پھیلایا ہے تو ان کے ناموں کے ساتھ ایسے القاب ہیں کہ فلاں رسیاں بٹنے والا تھا، فلاں بوٹ بنانے والا تھا، فلاں گھی بیچنے والا تھا۔دراصل صوفیاء نے تبلیغ اسلام کا یہ ذریعہ نکالا تھا کہ وہ اپنے شاگردوں کو ایسے پیشے سکھاتے کہ اپنا پیٹ پالنے کے قابل ہوسکیں اور پھر انہیں باہر بھیج دیتے تھے کہ جا کر اپنا کام بھی کریں اور ساتھ تبلیغ اسلام بھی۔یہی ایک ذریعہ ہے جس میں اگر ہم کامیاب ہو جائیں تو لاکھوں مبلغ مفت ملک کے کونہ کونہ میں بھیج سکتے ہیں۔مردم شماری کے اعداد و شمار کی رُو سے جو اس سال شائع ہوئے ہیں۔ہمارے ملک کی آبادی ساڑھے سینتیس کروڑ ہے۔اس میں سے اگر نصف بھی مرد ہوں تو گویا پونے انیس کروڑ مرد ہیں۔ان میں سے اگر آدھے جوان ہوں تو قریبا نو کروڑ جوان مرد ہیں اور اندازہ کیا گیا ہے کہ ہر سو میں سے کم سے کم ہیں پیشہ ور ہیں اور باقی جو دس فیصدی ہیں وہ زراعت یا تجارت یا ملازمت کرتے ہیں۔گویا ہمارے ملک میں کم سے کم ایک کروڑ اسی لاکھ انسان پیشہ ور ہیں یعنی دھوبی ، نائی، درزی، موچی، لوہار ، ترکھان وغیرہ اور اگر ہم پوری کوشش کریں اور ان ایک کروڑ اسی لاکھ میں سے سواں حصہ بھی لے لیں۔تو بھی گویا ہمارے لئے اس میدان میں ایک لاکھ اسی ہزار اپنے آدمی داخل کر دینے کی گنجائش ہے اور اگر اتنے آدمی سارے ملک میں پھیل جائیں تو ہمیں چھپیں سال میں سارا ملک احمدی ہو سکتا ہے اور یہ سکیم ایسی ہے کہ جتنا اسے پھیلایا جائے اتنی ہی کامیابی ہو سکتی ہے۔اس کے علاوہ تیموں اور بیواؤں کی پرورش کا سوال بھی میرے سامنے ہے اور یہ بہت بڑے ثواب کا کام ہے اور اس طرح وہ طبقہ جو عام طور پر نظر انداز ہوتا ہے وہ نمایاں طور پر آگے آسکتا ہے اور ایسے لوگ دین کے خادم بننے کے علاوہ اپنی روزی بھی کما سکتے ہیں مگر یہ کام ایسے ہیں کہ جن پر مبلغین کی تیاری سے زیادہ خرچ آتا ہے، کیونکہ اول تو پیشہ ور استاد بہت مشکل سے ملتے ہیں اور پھر یہ کام سکھانے کیلئے بہت سامان ضائع کرنا پڑتا ہے اس لئے جب تک اس سکیم کو ایسا مکمل نہ کر لیا جائے کہ یہ اپنا بوجھ خود اٹھالے اس وقت تک کامیابی مشکل ہے۔شروع میں اس سکول میں نو طالب 487