تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 489

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 3 دسمبر 1937ء مزدوری تھوڑی ہے۔حالانکہ یہاں جو مزدوری ہم دیتے تھے وہ اس سے ڈیوڑھی تھی جو امرتسر میں اسی کام کے لئے ملتی ہے مگر وہ اس اجرت پر کام نہیں کرتی تھیں اور گھر میں بیٹھی درخواستیں لکھوا لکھوا کر بھیجتی رہتی تھیں کہ ہمیں فلاں ضرورت ہے، فلاں حاجت ہے۔ہماری مدد کی جائے ، حالانکہ میں نے یہ بھی کہ دیا تھا کہ اس کام سے جو آمدنی ہوگی وہ بھی غربا پر ہی خرچ ہوگی۔انہیں تو چاہئے تھا کہ اگر مزدوری کم بھی تھی تو کام کرتیں۔امرتسر میں اگر ایک ازار بند بنانے کی اجرت ایک پیسہ ہو اور یہاں صرف دھیلا بلکہ دمڑی ملتی پھر بھی ان کو چاہئے تھا کہ کام کرتیں کیونکہ وہ آمدنی پھر غربا میں جانی تھی مگر انہوں نے ڈیوڑھی دگنی مزدوری لے کر بھی کام کرنا پسند نہیں کیا اور یہ ایک بہت بڑا نقص ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہماری جماعت تاجر نہیں۔ہمارے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ کام وہ کرنا چاہئے جس میں پورا گزارہ ہو سکے، حالانکہ بہتر یہ ہے کہ جو کام بھی ملے وہ کر لیا جائے اور پوری محنت کرنے کے بعد اور پورا وقت کام کرنے کے باوجود اگر گزارہ نہ ہو تو انسان کا حق ہے کہ امداد کی درخواست کرے۔ایک شخص پورا کام کرتا ہے مگر پھر بھی دو روپیہ ہی کما سکتا ہے تو اس کا حق ہو جاتا ہے کہ اس کی باقی ضرورتیں جماعت پوری کرے، کیونکہ جوشخص بتا دیتا ہے کہ روزانہ چھ گھنٹے کام کرنے کے باوجود اسے دو روپے ہی مل سکے ہیں۔وہ سائل نہیں اور اس کا حق ہے کہ جماعت اس کی امداد کرے لیکن جو اس خیال سے کام ہی نہیں کرتا کہ دوروپے میں اس کا گزارہ نہیں ہو سکتا اور پھر خواہش رکھتا ہے کہ اس کی ضرورتیں جماعت پوری کرے وہ سائل ہے اور سائل کو روکنے کی اسلام نے حد درجہ کوشش کی ہے۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ جماعتیں اپنی ذمہ داری کو سمجھیں گی اور کوشش کریں گی کہ اس معیار کے مطابق جو چندہ کا میں نے مقرر کیا ہے چندہ دیں۔میں جانتا ہوں کہ اگر میں یہ تحریک کرتا کہ گزشتہ سال جتنا چندہ دیا گیا ہے اس سے زیادہ دیا جائے تو جماعتیں یقینا زیادہ دیتیں مگر اب کہ میں نے کم کے لئے کہا ہے۔بعض لوگ ستی کریں گے اور خیال کرلیں گے کہ شاید اب ایسی ضرورت نہیں رہی۔اقوام جب کمی کی طرف آتی ہیں تو اس وقت ان کا قدم تنزل کی طرف اٹھا کرتا ہے اس لئے یہ سال چندہ کے لحاظ سے نازک سال ہے کیونکہ کئی لوگ کمی کا نام سن کر ہی خیال کر لیں گے کہ اب ضرورت نہیں اس لئے کمی کے وقت ہمیشہ یہ احتیاط کرنی چاہئے کہ بالکل بند ہی نہ ہو جائے۔تحریک جدید کے سب سے پہلے سال میں ایک لاکھ سات ہزار روپیہ کا وعدہ ہوا تھا اور اس سال بھی میں نے کہا ہے کہ اتنی ہی رقم جمع کی جائے۔اگلے سال اس سے دس فیصدی کم یعنی 94000۔اس 489