تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 475
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اؤل اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 26 نومبر 1937ء چندہ دے سکتا ہے دے اور جو نہیں دے سکتا وہ نہ دے اور اگر کوئی شخص ایسا ہے جو اپنے پہلے چندوں سے بھی زیادہ چندہ دینا چاہتا ہے تو میں اسے بھی نہیں روکتا۔میرے مخاطب صرف وہ لوگ ہیں جو چندہ دے سکتے ہیں اور دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔چنانچہ گو بھی تحریک نہیں کی گئی تھی مگر اس وقت تک چار پانچ وعدے میرے پاس آچکے ہیں اور وہ ان کے پہلے وعدوں سے زیادہ ہیں۔ان میں سے ایک چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا وعدہ ہے اور دوسرا ڈاکٹر شاہ نواز خان صاحب افریقہ کا۔خود میرا ارادہ بھی پہلے تین سالوں سے زیادہ چندہ دینے کا ہے۔اسی طرح اور بھی بعض دوستوں کے وعدے آچکے ہیں۔پس جو لوگ زیادہ دے سکتے ہیں ان کو میں نہیں روکتا۔جو شخص نیکی کے میدان میں جس قدر زیادہ قدم بڑھاتا ہے اسی قدر زیادہ وہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کا مستحق ہوتا ہے۔پس میں ان سے بھی جو زیادہ چندہ دے سکتے ہیں کہتا ہوں کہ نیکیوں کا میدان وسیع ہے آؤ اور آگے بڑھو اور جو شخص چندہ نہیں دینا چاہتا اسے میں یہ کہتا ہوں کہ اگر تم چندہ نہیں دینا چاہتے تو مت دو اور وعدہ بھی مت لکھواؤ۔ایسانہ ہو کہ تم گنہ گار ٹھر ولیکن اگر کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ خواہ مجھے تنگی سے گزارہ کرنا پڑے میں چندہ ضرور ادا کروں گا تو میں اس سے کہتا ہوں کہ تم کم سے کم اس قدر قربانی کرو جس قدر تم نے پہلے سال کی تھی اور انہی اصول پر کرو جو پہلے سال میں نے بتائے تھے یعنی دو دو چار چار روپے نہیں بلکہ کم از کم پانچ روپے اس تحریک میں دیئے جائیں۔پھر دس ، پھر میں، پھر تھیں، پھر ساٹھ، پھر سو، پھر دوسو، پھر تین سو اور جو اس سے بھی زیادہ دے سکتا ہے وہ اس سے زیادہ دے مگر جو شخص اتنا چندہ نہیں دے سکتا جتنا اس نے پہلے سال دیا تھا تو اگر جس قدر رقم اس نے دی تھی اس سے کم تر کسی اور رقم کی اجازت ہے۔تو وہ اپنے حالات کے مطابق اس سے کم چندہ دے دے مثلاً اگر کسی نے پہلے سال میں روپے دیئے اور اس سال وہ اتنے نہیں دے سکتا تو وہ ہیں دے سکتا ہے اور اگر کسی نے ہمیں دیئے تھے اور اس سال وہ اتنے روپے نہیں دے سکتا تو اس کیلئے بھی گنجائش ہے وہ دس روپے دے سکتا ہے اور اگر کوئی شخص جس نے پہلے سال دس روپے دیئے تھے اس سال دس دینے کی بھی طاقت نہیں رکھتا تو پانچ دے لیکن چونکہ یہ آخری حد ہے اسلئے اگر کوئی شخص ایسا ہو جس نے پہلے سال پانچ وپے دیئے تھے اور اس سال وہ پانچ بھی نہیں دے سکتا تو پھر وہ اس تحریک میں حصہ نہ لے کیونکہ پانچ سے کم کوئی رقم اس تحریک میں قبول نہیں کی جاتی۔پس جو شخص دے سکتا ہے وہ انہی اصول پر دے جو میں مقرر کر چکا ہوں سوائے اسکے کہ وہ اس سے زیادہ دینا چاہتا ہو۔مثلاً کوئی شخص تین سو کی بجائے ہزار، دو ہزار یا تین ہزار دینا چاہے تو شوق سے دے۔اللہ تعالیٰ کے فضل غیر محدود ہیں اور اس کے پاس جس۔475