تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 474

اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 26 نومبر 1937 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول سے پہلے سال جس قدر چندہ کسی نے دیا تھا کم از کم اسی قدر چندہ اس سال دیا جائے۔ہاں اگر کوئی زیادہ دینا چاہے تو وہ زیادہ بھی دے سکتا ہے۔پس اس وقت میرا دوستوں سے مطالبہ یہ ہے کہ انہوں نے اس تین سالہ دور میں سے پہلے سال جتنا چندہ دیا تھا کوشش کریں کہ اس سال اس چندہ کے برابر چندہ دیں لیکن میں کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ ضرور اسی قدر چندہ دے کیونکہ یہ طوعی چندہ ہے اور اس کا دینا میں نے ہر شخص کی مرضی پر منحصر رکھا ہوا ہے۔پس میں یہ نہیں کہتا کہ جو شخص اس سال چندہ دینے کی بالکل طاقت نہیں رکھتا وہ بھی ضرور چندہ دے۔میں کسی کو مجبور نہیں کر رہا اور نہیں کرنا چاہتا۔یہ طوعی چندہ ہے اور مجھے نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ باوجود اس کے کہ میں نے بار بار کہا ہے کہ یہ طوعی چندہ ہے اور اگر کسی میں ہمت نہیں تو وہ وعدہ مت لکھوائے۔پھر بھی بعض لوگ اپنی مرضی سے چندہ لکھوا کر ادا نہیں کرتے اور اس طرح وہ ایک خطر ناک گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ہزاروں احمدی ایسے ہیں جنہوں نے اس تحریک میں حصہ نہیں لیا لیکن ان پر میرا کوئی گلہ نہیں۔مجھے شکایت ان سے ہے جو اپنا نام لکھوا کر پھر پیچھے ہٹے اور انہوں نے وقت کے اندر چندہ ادا نہ کیا۔میں نے ان کی سہولت کیلئے یہ اعلان بھی کر دیا تھا کہ اگر کوئی شخص دیکھتا ہے کہ اس کے حالات ایسے ہیں کہ وہ چندہ ادا کرنے کی بالکل طاقت نہیں رکھتا مگر نام لکھا چکا ہے تو وہ اپنی میعاد میں اضافہ کرا لے یا مجھ سے معافی لے لے۔میں اس کا چندہ معاف کرنے کے لئے تیار ہوں۔اسطرح وہ خدا کے حضور مجرم نہیں بنے گا، کیونکہ خدا کہے گا کہ جب میرے نمائندہ نے تجھے معاف کر دیا تو میں نے بھی تجھے معاف کر دیا۔خدا رو پے کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ سچائی دیکھتا ہے۔اگر تم ایک عیسائی سے کوئی وعدہ کرتے ہو تو اس وقت عیسائی اس کا نمائندہ ہے اور تمہارا فرض ہے کہ اس وعدے کو پورا کرو اور اگر تم ایک یہودی سے کوئی وعدہ کرتے ہو تو اس وقت یہودی اس کا نمائندہ ہے اور تمہارا فرض ہے کہ اس وعدے کو پورا کرو، کیونکہ جس سے وعدہ ہو گیا اس کے اور وعدہ کرنے والے کے درمیان خدا آجاتا ہے۔پس وعدے کو پورا کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے اور جب میں نے ان لوگوں کیلئے جو سخت مالی مشکلات میں مبتلا ہوں یہ صورت پیدا کر دی تھی تو انہیں چاہئے تھا کہ وہ اس سے فائدہ اٹھاتے اور خدا تعالیٰ کے گنہ گار نہ بنتے مگر کئی دوست ایسے ہیں جنہوں نے اس سے بھی فائدہ نہیں اٹھایا۔میں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر وقت کے اندرا دا نہیں کر سکتے تو مہلتیں لے لو۔چنانچہ بعض نے مزید مہلت لے لی مگر بعضوں نے مہلت بھی نہیں لی۔چندہ معاف بھی نہیں کرایا اور وقت کے اندر بھی ادا نہیں کیا۔گویا انہیں یہ شوق تھا کہ ہم ضرور گنہگار بنیں گے اور کسی رعایت سے فائدہ نہیں اٹھا ئیں گے۔اب بھی میں یہی کہتا ہوں کہ جو شخص 474