تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 476
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 26 نومبر 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول طرح تین سور و پیہ چندہ دینے والے کے لئے جزاء ہے۔اسی طرح اس کے پاس تین ہزار روپیہ چندہ دینے والے کے لئے بھی جزاء ہے۔اسی طرح اگر کوئی شخص پانچ ہزار روپیہ چندہ دینا چاہے تو وہ پانچ ہزار روپیہ چندہ کی جزاء بھی دے سکتا ہے اور اسکی طرف سے قربانی کے مطابق ثواب ملتا ہے جو شخص دو ہزار روپے دے سکتا ہے مگر وہ تین سو دیتا ہے اسے وہ ثواب ہر گز نہیں مل سکتا جو اس شخص کو ملے گا جو پانچ روپے دینے کی تو فیق رکھتا تھا اور اس نے پانچ روپے ہی دیئے کیونکہ دو ہزار دینے کی توفیق رکھنے والا جب تین سو روپیہ دیتا ہے تو وہ اپنی طاقت کا ساتواں حصہ قربانی کرتا ہے، لیکن پانچ روپے دینے کی طاقت رکھنے والا جب پانچ روپے ہی رے دیتا ہے تو وہ سو فیصدی قربانی کرتا ہے۔پس خدا پانچ روپے دینے والے کو زیادہ ثواب دے گا اور تین سو روپے دینے والے کو کم کیونکہ وہ ثواب رو پید کی مقدار پر نہیں دیتا بلکہ قربانی کی طاقت پر دیتا ہے۔پس یہ مت خیال کرو کہ چونکہ تم نے تین سوروپے دے دیئے ہیں اسلئے ضرور تم پانچ روپے چندہ دینے والے۔ثواب میں بڑھ کر رہو گے۔سینکڑوں پانچ روپے دینے والے ایسے ہونگے جو تین سو روپے چندہ دینے والوں سے زیادہ ثواب کے مستحق ہوں گے کیونکہ انہیں پانچ سے زیادہ روپیہ دینے کی توفیق نہیں تھی اور تین سو روپیہ دینے والوں کو یہ توفیق تھی کہ وہ چار سو دیتے یا پانچ سو دیتے یا ہزار بلکہ اس سے بھی بڑھ کر دیتے۔پس اس سال کے لئے میری تحریک یہی ہے کہ جتنا کسی شخص نے اس تین سالہ دور کے پہلے سال چندہ دیا تھا، اتنا ہی چندہ اس سال دے۔پھر میری سکیم یہ ہے کہ ہر سال اس چندہ میں دس فیصدی کم کرتے چلے جائیں یعنی جس نے اس سال سو روپیہ چندہ دیا ہے اس سے اگلے سال نوے روپے لئے جائیں گے پھر اس سے اگلے سال اسی روپے۔پھر تیسرے سال ستر روپے۔پھر چوتھے سال ساٹھ روپے۔پھر پانچویں سال پچاس روپے اور پھر یہ پچاس فیصدی چندہ باقی دو سال مسلسل چلتا جائے گا اور ساتویں سال کے بعد چندے کے اس طریق کو ختم کر دیا جائے گا۔یہ مطلب تو نہیں کہ پھر سات سال چندہ کا سلسلہ بند کر دیا جائے گا۔چندے تو صدر انجمن احمدیہ کی ضرورت کیلئے بھی ہوتے ہیں۔ممکن ہے کہ خدا تعالٰی اور کوئی کام پیدا کر دے مگر تحریک جدید کی سکیم کے بارہ میں میری سکیم ایسی ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس رنگ میں چندہ کی ضرورت نہ رہے گی انشاء اللہ تعالیٰ اور ان سالوں میں اس کی اپنی ذاتی آمد ایسی ہو جائے گی جو اس کام کو جاری رکھنے کیلئے کافی ہو۔اس سکیم پر کسی شخص کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے کہ جماعت پر بوجھ ڈال دیا گیا ہے کیونکہ میں اس چندہ کیلئے کسی کو مجبور نہیں کرتا۔میں ان کو مخاطب کر رہا ہوں جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی ہوئی ہے اور جو میری آواز پر لبیک کہنے میں سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی 476