تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 470
اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 26 نومبر 1937ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد اول ہیں۔تو کوئی وجہ نہیں ہم اس معاملہ میں اسلامی احکام کا اجرا نہ کریں۔نادان کہتے ہیں کہ ہمارے ذاتی معاملات میں دخل دیا جاتا ہے مگر میں کہتا ہوں کہ اگر تم اس بات کو برداشت نہیں کر سکتے تو تم ہمارے پاس آئے کیوں تھے تم نے جب خدا کو رب العالمین تسلیم کیا ہے تو تم خدا تعالیٰ کے دین کے جس نمائندہ کے پاس بھی جاؤ گے وہ تمہارے باپ کے طور پر ہوگا اور اس کا حق ہو گا کہ وہ تمہارے ذاتی معاملات میں دخل دے اور اگر وہ دخل نہ دے تو اسلام کی تعلیم لوگوں کے گھروں میں کس طرح قائم ہو سکتی ہے۔پس جب تک خدا تعالی موجودہ حکومتوں اور پارلیمنوں کو احمدی نہیں بنا دیتا۔اس وقت تک اسلامی نظام کے دو حصے ہیں جن پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ضروری ہے کہ ان پر عمل کیا جائے اور جب حکومتیں احمدی ہو جائیں گی تو اس وقت اسلامی نظام کا مکمل ڈھانچہ تیار ہو گا اور اس وقت دنیا کو معلوم ہوگا کہ اسلام کی تعلیم اور اسلام کا نظام کس قدر پُر امن ہے۔آج کو حکومتیں احمدی نہیں مگر کئی امور ایسے ہیں جن میں حکومت روک نہیں بنتی۔مثلاً زکوۃ ہے موجودہ گورنمنمیں زکوۃ نہیں لیتیں اور اگر کوئی زکوۃ وصول کرے تو اس کے راستہ میں کوئی روک نہیں ڈالتیں۔پس جب حکومت خود ایک بات کی ہمیں اجازت دیتی ہے یا کم از کم اس میں روک نہیں بنتی تو ہم کیوں اس سے فائدہ نہ اٹھائیں اور کیوں اس میں اسلامی نظام قائم نہ کریں۔پس جتنے حصے اسلامی نظام کے ہیں ان میں سے جن حصوں کو موجودہ بادشاہت نے اپنے اندر شامل نہیں کیا ہمارا حق ہے کہ ان کو استعمال کریں اور ان کے ماتحت لوگوں کو چلنے پر مجبور کریں۔زکوۃ کی میں نے صرف ایک مثال دی ہے۔ورنہ اور بھی کئی ایسے مسائل ہیں جو شریعت نے ملکیت سے متعلق رکھے ہیں لیکن موجودہ حکومتوں نے ان کو اپنے حدود اختیار سے باہر رکھا ہے اور اگر ان کا انتظام کیا جائے تو حکومت کا کوئی قانون ان میں روک نہیں بنتا۔بے شک بہت سے ایسے بھی حصے ہیں۔جو بادشاہت سے تعلق رکھتے ہیں اور ان پر اس وقت عمل کیا جاسکتا ہے جب بادشاہت احمدیوں کو حاصل ہو۔مگر جب تک وہ وقت نہیں آتا وہ امور جن میں حکومت دخل نہیں دیتی ہمارا فرض ہے کہ ان میں اسلامی احکام نافذ کریں۔اگر ہم زندگی کے ان شعبوں میں بھی اسلامی احکام جاری نہیں کرتے جن میں ان احکام کا اجرا ہمارے لئے قانوناً جائز ہے تو یقیناً ہم انسان نہیں طوطے ہیں۔جس طرح طوطا میاں مٹھو۔میاں مٹھو کہتا رہتا ہے اور اگر میاں مٹھو کی بجائے اُسے لا اله الا اللہ سکھا دو تو وہ یہی کہتا رہے گا۔اسی طرح گوتم احمدی ہو مگر تم طوطے کی طرح اپنے آپ کو احمدی کہتے ہو اور سمجھتے نہیں کہ اپنے آپ کو احمدی کہنے کے بعد تم پر کس قدر ذمہ داریاں عائد ہو چکی ہیں۔پس جب تک اسلامی حکومت کو قائم کرنے کے لئے ہم اپنے نظام میں تبدیلی نہیں کرتے۔اس وقت 470