تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 469
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 26 نومبر 1937ء دنیا میں کبھی امن قائم نہیں ہوتا جب تک قوم کے افراد میں ایک نظام نہ ہو اور ان میں جفاکشی کی عادت نہ ہو اور جفاکشی بغیر سادہ زندگی اختیار کئے پیدا نہیں ہوتی۔اسی طرح رب العالمین کی صفت کے ماتحت بھی سادہ زندگی کی تحریک اس طرح آتی ہے کہ سادہ زندگی اس فرق کو دور کرتی ہے جو امرا اور غربا میں پایا جاتا ہے۔جس طرح باپ چاہتا ہے کہ کسی وقت اس کے تمام بیٹے خواہ وہ امیر ہوں یا غریب ایک ہی دستر خوان پر کھانا کھا ئیں۔اسی طرح رب العالمین یہ چاہتا ہے کہ امرا اور غربا میں ایسا فرق نہ ہو جس کی وجہ سے ان کا ایک دستر خوان پر جمع ہونا مشکل ہو۔فرق بے شک ہو مگر ایسا نہ ہو جو آپس کے تعلقات کو خراب کر دے اور ان میں اس قدر انسانیت بھی باقی نہ رہنے دے کہ امیر غریب کو حقیر اور ذلیل جانے اور غریب امیر کے متعلق سمجھے کہ وہ تمام انسانوں سے اب کچھ بالا ہو گیا ہے مگر امارت غربت کا امتیاز سادہ زندگی سے ہی دور ہوسکتا ہے اور یہ صفت بھی رب العالمین کے ماتحت ایک تحریک ہے جس پر عمل کر کے انسان اپنے آپ کو رب العالمین کا مظہر بنا سکتا ہے۔غرض یہ چند مشقیں ہیں جو میں نے بتائیں اور میری غرض ان مشقوں سے یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا مظہر بناؤ اور اس کی رحمانیت کا بھی مظہر بناؤ اور اس کی ملکیت کا بھی مظہر بناؤ اور اس طرح اپنے اندر ایک عظیم الشان تغیر پیدا کر کے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رضا کا مستحق بناؤ مگر میں دیکھتا ہوں چونکہ ہماری جماعت میں جو لوگ نئے داخل ہوتے ہیں۔وہ وفات مسیح اور ختم نبوت وغیرہ کے مسائل سن کر داخل ہوتے ہیں اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ چند مسائل ہی ہیں جو ہم نے ماننے ہیں۔انہیں مانا اور چھٹی ہوگئی۔ނ حالانکہ اسلام ایک وسیع نظام کا نام ہے اور اس کے اندر بادشاہتوں کا نظام بھی شامل ہے۔اہلی اور عائلی زندگی کا نظام بھی شامل ہے۔تعلیمی نظام بھی شامل ہے۔تربیتی نظام بھی شامل ہے اور یہ جس قدر نظام ہیں ان کو قائم کرنا ہمارے لئے ضروری ہے۔ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم رحمانیت کو بھی قائم کریں اور رحیمیت کو بھی۔ہم ربوبیت کو بھی قائم کریں اور ملکیت کو بھی۔پھر ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم غربا کی خبر گیری کریں اور انہیں اٹھانے کی کوشش کریں اور امرا کا بھی خیال رکھیں اور انہیں عیش پسند زندگی میں پڑنے سے محفوظ رکھیں۔غرض ایک وسیع نظام کی ضرورت ہے جس کے ماتحت اسلام کے تمام احکام عملی رنگ میں دنیا کے سامنے آ سکتے ہیں۔بے شک اس نظام کا ایک حصہ وہ ہے جو حکومت سے تعلق رکھتا ہے لیکن ملکیت کا بھی ایک حصہ حکومت نے رعایا کے سپر د کر رکھا ہے اور پھر اسلام کا وہ نظام جو اہلی اور عائلی زندگی سے تعلق رکھتا ہے اسے تو گلی طور پر ہم قائم کر سکتے ہیں۔کیونکہ حکومت کی طرف سے اس میں کسی قسم کی روک نہیں۔پس جب حکومت ایک بات میں دخل نہیں دیتی اور ہم اس میں اسلامی تعلیم جاری کر سکتے 469