تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 467
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرموده 26 نومبر 1937ء برداشت نہیں کر سکتے بچوں کو اپنی گودی میں اٹھائے پھرتے ہیں۔تو اپنے ہاتھوں سے بنی نوع انسان کی خدمت کرنا یہ ربوبیت کا حصہ ہے اور ہر شخص جو رب العالمین کی صفت کا مظہر بننا چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ یہ کام کرے۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ پیسے لے لومگر ہاتھ سے کام نہ وہ ملکیت کا مظہر تو بن سکتا ہے مگر رب العالمین کا مظہر نہیں بنتا حالانکہ ربوبیت کا مادہ فطرت انسانی میں داخل ہے۔ایک زمیندار ہے شک ٹیکس ادا کرتا ہے مگر کوئی زمیندار اس امر کو برداشت نہیں کر سکتا کہ گورنمنٹ ٹیکس کچھ بڑھا دے اور اس کے بچوں کی پرورش کا خود ذمہ لے لے۔وہ کہے گا کہ ٹیکس بے شک بڑھا دونگر بچہ کی خدمت میں ہی کروں گا اور کسی کو نہیں کرنے دونگا۔روس میں کئی دفعہ محض اسی بات پر بغاوت ہو گئی ہے کہ حکومت کہتی ہے کہ قوم کے بچوں کو ہم پائیں گے اور ان کی پرورش حسب منشاء کریں گے اور لوگ کہتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کی خود پرورش کریں گے تمہارے سپرد نہیں کر سکتے۔حکومت کے افسر کہتے ہیں کہ ہم تمہارے بچوں کو عمدہ سے عمدہ مکانوں میں رکھیں گے۔اچھی سے اچھی غذا کھلائیں گے۔تم ان کی پرورش ہمارے ذمہ رہنے دو مگر وہ کہتے ہیں کہ ہم خواہ بھوکے مریں یا فاقے برداشت کریں بچوں کو اپنی گودی سے نہیں اتاریں گے۔غرض ملکیت کے ماتحت چندے دیئے جاتے ہیں لیکن ربوبیت کے ماتحت ہاتھوں سے خدمت کی جاتی ہے تم اپنے بچوں کو اس لئے گود میں نہیں اٹھاتے کہ اس کو اٹھانے والا اور کوئی نہیں ہوتا اگر تمہارے ہزار خادم بھی ہوں تب بھی تم اپنے بچوں کو خود اٹھاؤ گے کیونکہ ربوبیت تمہاری فطرت میں داخل ہے۔مجھے ایک نظارہ کبھی نہیں بھولتا میں اس وقت چھوٹا تھا۔سولہ سترہ سال عمر تھی کہ اس وقت ہماری ایک چھوٹی ہمشیرہ جو چند ماہ کی تھی فوت ہوگئی اور اسے دفن کرنے کیلئے اس مقبرہ میں لے گئے جس کے متعلق احرار کہتے ہیں کہ احمدی اس میں دفن نہیں ہو سکتے۔جنازہ کے بعد نعش حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ہاتھوں پر اٹھائی۔اس وقت مرزا اسماعیل بیگ صاحب مرحوم جو یہاں دودھ کی دکان کیا کرتے تھے آگے بڑھے اور کہنے لگے کہ حضور لعش مجھے دے دیجئے۔میں اٹھا لیتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مڑکر ان کی طرف دیکھا اور فرمایا یہ میری بیٹی ہے یعنی بیٹی ہونے کے لحاظ سے اس کی ایک جسمانی خدمت جو اس کی آخری خدمت ہے یہی ہو سکتی ہے کہ میں خود اس کو اٹھا کر لے جاؤں۔تو صفت رب العالمین کے ماتحت تمام جسمانی خدمات آتی ہیں۔اگر تم رب العالمین کے مظہر بننا چاہتے ہو تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ مخلوق کی جسمانی خدمات بجالاؤ۔اگر تم خدمت دین میں اپنی ساری جائیداد دے دیتے ہو۔اپنی گل آمد اسلام کی اشاعت پر خرچ کر دیتے ہو تو تم ملکیت کے مظہر تو بن جاؤ گے مگر رب العالمین کے مظہر نہیں بنو گے کیونکہ رب العالمین کا مظہر بننے کیلئے ضروری ہے کہ تم اپنے ہاتھ سے کام کرو اور غربا کی خدمت پر کمر بستہ رہو۔ہاں 467