تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 468

اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 26 نومبر 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول جب تم اپنے ہاتھوں سے بھی بنی نوع انسان کی خدمت بجالاؤ گے تو تم رب العالمین کی صفت کے مظہر بن جاؤ گے۔پھر جب میں نے کہا کہ تحریک جدید کے بورڈنگ میں اپنے بچوں کو داخل کراؤ تو یہ تمہیں صفت رحیمیت کا مظہر بنانے کے لئے مطالبہ کیا کیونکہ رحیمیت کہتی ہے کہ تم ایسی تربیت کرو اور ایسی عمدہ خوبیاں مخلوق میں پیدا کرو کہ جن سے وہ دوامی زندگی اختیار کر لے۔پھر یہ تحریک ایک رنگ میں رب العالمین کی صفت کے ماتحت بھی ہے یعنی قوم کے ہر شعبہ کی اصلاح کی جائے۔اسی طرح جب میں نے سادہ زندگی اختیار کرنے کیلئے کہا۔مطالبہ صفت رحمانیت اور صفت ملکیت کے ماتحت آتا تھا کیونکہ ہر وہ قوم جو اپنی زندگی عیش پسند بنالیتی ہے غربا کی خدمت میں حصہ نہیں لیتی حالانکہ رحمانیت کی صفت چاہتی ہے کہ مزدوروں سے ہی نہیں بلکہ غیروں سے بھی سلوک کیا جائے اور پھر اس کیلئے ضروری ہے کہ انسان کے پاس سامان ہو اور سامان تبھی ہو سکتا ہے کہ جب اس کی زندگی کو بعض قیود کے اندر رکھا جائے جو شخص بعض قیود کے اندر اپنے آپ کو نہیں رکھتا وہ موقع پر ضرور فیل ہو جاتا ہے۔پھر ملک ہونے کے لحاظ سے بھی سادہ زندگی ضروری ہے کیونکہ ملک کیلئے سپاہ ضروری ہے اور سپاہی کیلئے یہ بات ضروری ہے کہ وہ جفا کش ہو۔ورنہ وہ فوج جس کے سپاہی ترفہ سے زندگی بسر کرتے ہوں لڑائی میں کام نہیں آسکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک لطیفہ بیان کیا کرتے تھے کہ ایک بادشاہ تھا۔جسے یہ وہم ہو گیا کہ سپاہیوں پر روپیہ فضول بر باد کیا جاتا ہے۔ملک میں جو ہزاروں لاکھوں قصائی موجود ہیں یہی لڑائی کے لئے کافی ہیں۔جب جنگ کا موقع ہو انہیں بلایا جا سکتا ہے۔چنانچہ اس خیال کے آتے ہی اس نے تمام سپاہی موقوف کر دیئے۔جب یہ خبر اردگرد پھیلی تو اس کے قریب ہی ایک اور بادشاہ تھا جو اس کا دشمن تھا اس نے دیکھا کہ یہ موقع عمدہ ہے۔اب فوجیں اس نے موقوف کر دی ہیں۔اس پر حملہ کر دینا چاہئے۔چنانچہ وہ اپنی فوج لے کر ملک پر حملہ آور ہو گیا۔بادشاہ کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے حکم دیا کہ فوراً تمام قصائیوں کو جمع کیا جائے اور ایک فوج بنا کر انہیں کہہ دیا جائے که دشمن پر حملہ کر دیں۔اس پر اول تو قصائیوں کو جمع کرنے میں بہت دیر لگی اور اتنے عرصہ میں دشمن کی فوجیں شہر کے قریب آگئیں لیکن خیر جدوجہد کے بعد قصائیوں کو جمع کر کے میدان جنگ میں بھیج دیا گیا۔ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ بادشاہ نے کیا دیکھا کہ وہ تمام قصائی بھاگے چلے آرہے ہیں اور بادشاہ سے مخاطب کر کے فریاد کر رہے ہیں کہ انصاف! انصاف ! بادشاہ نے پوچھا کیا ہوا۔وہ کہنے لگے بھلا یہ بھی کوئی انصاف ہے ہم باقاعدہ دشمن کے ایک آدمی کو پکڑتے اور پوری احتیاط کے ساتھ اس کو ذبح کرتے ہیں مگر وہ لوگ نہ رگ دیکھتے ہیں نہ پٹھا یو نہیں مارتے چلے جاتے ہیں۔ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے۔وہ قصائی تو ادھر انصاف کی جستجو کرتے رہے اور اُدھر دشمن کی فوجیں بے انصافی لئے ملک میں داخل ہو گئیں۔تو 468