تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 466
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 26 نومبر 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول نے آج پیدا کی ہوں بلکہ کروڑوں کروڑ سال پہلے اس نے یہ چیزیں تیار کرنی شروع کر دی تھیں۔اسی طرح ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم بھی کل کی ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے آج سے تیاری شروع کر دیں اور اسی وجہ سے میں نے امانت کی تحریک جاری کی۔پھر جب میں نے کہا کہ اپنے ہاتھوں سے کام کرو تو یہ بھی رب العالمین کی صفت کے ماتحت تھا کیونکہ رب العالمین کی صفت کے ماتحت کوئی شخص اس وقت تک نہیں آسکتا جب تک وہ اپنے ہاتھوں سے کام کرنے والا نہ ہو۔ربوبیت کا تعلق ماں باپ والی خدمت سے ہے اور ماں باپ کی خدمت چندہ سے نہیں بلکہ ہاتھوں سے ہوتی ہے۔بعض بیمار مائیں بے شک اپنے بچہ کو دودھ نہیں پلاتیں اور وہ اس بات پر مجبور ہوتی ہیں کہ نوکروں سے خدمت لیں مگر تندرست مائیں ہمیشہ اپنے بچوں کی اپنے ہاتھ سے خدمت کرتی ہیں۔خواہ ان کے ایک نہیں۔دس پچاس اور سونو کر بھی ہوں۔ملکیت کی زندگی کے ماتحت بے شک خدمت کاروں سے کام لیا جاسکتا ہے مگر صفت رب العالمین کے ماتحت ضروری ہوتا ہے کہ انسان اپنے ہاتھ سے کام کرے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم جن کے قدموں کے نیچے ہزاروں انسان اپنی آنکھیں بچھانے کیلئے تیار تھے اور جن کی خدمت کے لئے ہزاروں لوگ موجود تھے انہیں جب ہم اہلی زندگی میں دیکھتے ہیں تو یہ دکھائی دیتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک موقع پر جھکتے ہیں اور فرماتے ہیں۔عائشہ میری پیٹھ پر پاؤں رکھ کر فلاں نظارہ دیکھ لو۔پھر آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تو حضرت حسن جوا بھی چھوٹے بچے تھے تو گردن پر چڑھ کر بیٹھ جاتے۔جب آپ سجدہ کے بعد کھڑے ہونے لگتے تو انہیں اپنی گودی میں لے لیتے۔پھر رکوع میں جاتے تو اتار دیتے اور جب پھر سجدہ میں جاتے تو پھر آپ کی پیٹھ پر بیٹھ جاتے۔صحابہ ایک دفعہ یہ دیکھ کر حضرت حسن پر ناراض ہوئے تو آپ نے فرمایا رہنے دو بچوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ان کے شفیق بنو۔غرض گودنیا جہان کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کر رہے تھے اور دنیا جہان بھی آپ کے لئے ہر چیز قربان کرنے کیلئے تیار تھی مگر حضرت حسنؓ کے ساتھ سلوک ایک جدا گانہ رنگ رکھتا تھا۔جو سلوک آپ سے حضرت حسن کیا کرتے تھے کسی اور کا بچہ کرتا تو شاید وہ باپ اپنے بچے کو مار مار کر ادھ موا کر دیتا کیونکہ یہاں صرف ایمان کا سوال نہیں تھا بلکہ اہلی زندگی کا بھی سوال تھا۔غرض ربوبیت کے مرکز میں آکر ہاتھوں سے کام کرنا ضروری ہوتا ہے اور یہی تحریک جدید میں میں نے جماعت سے مطالبہ کیا کہ اپنے ہاتھوں سے کام کرو اور اسی طرح کرو جس طرح ماں باپ اپنے بچوں کا کام کرتے ہیں۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہی عورت جو اپنے ہاتھ سے اپنا ناک پونجھنے میں بہتک محسوس کرتی ہے اور بغیر رومال کے اسے صاف نہیں کرتی جب دیکھتی ہے کہ اس کے بچے کا ناک بہہ رہا ہے تو کس طرح فوراً اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کا ناک اپنے ہاتھ سے صاف کر دیتی ہے۔وہ بادشاہ جو اٹھ کر اپنے ہاتھ سے پانی لینا بھی 466