تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 460
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمود : 15 نومبر 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ایک مقصود کو سامنے رکھ کر جہاز کو اس لائن پر چلائیں کہ خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ منزل پر پہنچ سکیں اور تحریک جدید سے میری غرض یہی ہے کہ جن امور کی طرف جماعت کو توجہ کی ضرورت ہے اور ابھی اس طرف دھیان نہیں اس طرف جماعت کو متوجہ کیا جائے اور ہوشیار کیا جائے تاہم اسلامی نظام کی روح کو قائم کریں۔اس میں شک نہیں کہ نظام حکومت سے کامل ہوتا ہے۔مگر جب تک حکومتوں کو مسلمان بنانے میں ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔اس وقت تک جتنا بھی اسلامی نظام ہم قائم کر سکتے ہیں۔اتنا ہی کام ہمیں کرتے رہنا چاہئے اور ایسا کرنے میں کسی شخصیت کی پروانہ کرنی چاہئے۔اگر ایک بادشاہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہے مگر ہمارے ساتھ نہیں چلتا تو اسے ایک گندہ عضو سمجھ کر الگ کر دینا چاہئے اور اس بات کو بالکل بھول جانا چاہئے کہ یہ جماعت بڑوں اور چھوٹوں اور عالموں اور جاہلوں کی جماعت ہے اور صرف ایک ہی بات کو یا درکھنا چاہئے کہ یہ خدا تعالیٰ کی جماعت ہے۔اگر کوئی آدمی بڑا ہے اور وہ نظام کی پروا نہیں کرتا تو اُسے بھی الگ کر دیں اور اگر کوئی چھوٹا ہے جو ایسا ہے تو اسے بھی الگ کر دیں۔اگر کوئی جاہل ہمارے ساتھ نہیں چلتا تو اسے بھی الگ کر دیں اور کوئی عالم نہیں چلتا اسے بھی۔مجھ سے ایک دفعہ ایک شخص نے سوال کیا۔چونکہ اب وہ فوت ہو چکے ہیں میں ان کا نام بھی لے دیتا ہوں وہ صاحب شیخ غلام احمد صاحب واعظ مرحوم تھے انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ کے نزدیک کن لوگوں سے تعلق رکھنے میں جماعت کی مضبوطی ہو سکتی ہے امیروں سے یا غریبوں سے۔یہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے زمانہ کے آخری ایام کی بات ہے انہوں نے صوفیانہ رنگ میں یہ سوال کیا۔میں نے انہیں جواب میں لکھا کہ جماعت کی مضبوطی ان لوگوں کے ساتھ تعلق رکھنے سے ہو سکتی ہے جو خدا تعالیٰ کے ہوں خواہ وہ امیر ہوں یا غریب۔کئی دفعہ خدا تعالیٰ کے سلسلہ کا کام کرنے والا ایک غریب ہوتا ہے اور کئی دفعہ امیر کسی کو کیا پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ترقی کس کیلئے مقدر کی ہوئی ہے۔پس جو خد تعالی کا ہے وہی ہمارا ہے۔اگر امیر خدا تعالی کا ہے تو ہمارے سر آنکھوں پر اور اگر غریب ہے تو وہ ہمارے سر آنکھوں پر اور جو خدا تعالی کا نہیں اُسے ہمارا سلام ہے۔ہم نہ سوشلسٹ ہیں کہ غریبوں کو ابھارنا ہمارا کام ہو اور نہ کیپٹیلسٹ ہیں کہ سرمایہ داروں کی مدد کریں۔ہماری جماعت کوئی کسان موومنٹ نہیں کہ ہم کسانوں کیلئے اپنی سعی کو وقف کر دیں اور نہ یہ کیپٹیلسٹوں کی سوسائٹی ہے کہ تاجروں اور طاقتوروں کی مدد کریں۔جو لوگ اس قسم کی باتوں میں پڑتے ہیں وہ ہمیشہ نقصان اٹھاتے ہیں۔یہاں بھی بعض لوگ ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں کوئی کہتا ہے کہ یہاں غریبوں کی کوئی قدر نہیں اور کوئی کہتا ہے کہ یہاں کسی بڑے چھوٹے کی عزت ہی نہیں حالانکہ ایسی باتیں کرنے والوں میں خود 460