تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 461
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 15 نومبر 1937ء استقلال نہیں ہوتا جو کہتے ہیں کہ غریبوں کو کوئی نہیں پوچھتا۔جب مصری صاحب کا فتنہ اٹھا تو یہی کہتے تھے۔کہ دیکھو جی اتنے بڑے آدمی کی پروانہیں کی گئی۔ایسے لوگوں کو صرف باتیں کرنے کی عادت ہوتی ہے۔حقیقت کو وہ نہیں سمجھتے۔جو شخص خدا تعالیٰ کے سلسلہ کے لئے مفید ہے۔ہم اسے اونچا کرتے ہیں اور جو مضر ہے اسے الگ کر دیتے ہیں۔صرف یہ دیکھنا چاہئے کہ جدا کر نا ظلم کے رنگ میں نہ ہو بلکہ خیر خواہی کے رنگ میں ہو۔دانت آدمی ہمیشہ رنج سے ہی نکلواتا ہے۔وہ اس کے جسم کا حصہ ہوتا ہے مگر وہ مجبور ہوتا ہے۔اسی طرح ہم بھی جسے نکالتے ہیں افسردہ دلی کے ساتھ ہی نکالتے ہیں خوشی سے نہیں۔ہمارے دل غمگین ہوتے ہیں کہ جو چیز ہماری تھی وہ اب ہماری نہیں رہی۔پس چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی محبت ہمارے دل میں ایسی ہو کہ ہم کہیں کہ جس کی وجہ سے ہمیں درد پہنچا ہے وہ سب سے بڑا ہے۔صاحبزادہ مرزا امبارک احمد صاحب کی وفات پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک نظم لکھی۔جس کا ایک مصرعہ یہ ہے کہ بلانے والا اُسی ہے سب سے پیارا اے دل تو جان فدا کر یعنی بے شک مبارک احمد کی وفات کا صدمہ بڑا ہے مگر اے دل جس نے اسے اپنے پاس بلایا ہے وہ اس سے بھی زیادہ پیارا ہے۔یہی وہ حقیقی معرفت کا مقام ہے جو مومن کو حاصل کرنا چاہئے۔جو شخص سچائی کو چھوڑتا ہے اُسے دلیری کے ساتھ مگر افسردگی کے جذبات کے ساتھ الگ کر دیا جائے۔ی تحریک ابتدا تین سال کے لئے تھی اور یہ تین سال تجربہ کے تھے اور اس کے شروع میں ہی میں نے کہہ دیا تھا کہ یہ نہ سمجھو کہ یہ ختم ہو جائے گی بلکہ تین سال کے بعد یہ اس سے بھی زیادہ تعہد کے ساتھ جاری ہوگی اور زیادہ گراں اور بوجھل سکیم پیش کی جائے گی۔آج میں اس نئی تحریک کو بیان تو نہیں کرتا۔صرف احباب جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے نفسوں پر غور کریں کہ ان تین سالوں میں انہوں نے اس پر عمل کیا ہے یا نہیں اور اگر کیا ہے تو اس کا کیا نتیجہ ہوا اور اگر نہیں کیا تو وہ سوچیں کہ انہوں نے بیعت ہی کیوں کی ہوئی ہے۔جو شخص بیعت میں شامل ہوتا ہے وہ اسی لئے ہوتا ہے کہ میں کچھ سیکھوں اور اس کے باوجود اگر وہ بے پروائی کرتا ہے تو اس کے صاف معنی ہیں کہ وہ مجھے اپنا استاد بنا کر اور ہاتھ میں ہاتھ دے کر بھی دنیا کو دھوکہ دے رہا ہے اور اپنے نفس کو بھی دھوکا دے رہا ہے۔سکول میں جا کر وہی لڑکا کچھ سیکھ سکتا ہے جو سمجھتا ہے کہ استاد مجھ سے زیادہ جانتا ہے اور اس کی عزت اور احترام کرتا ہے۔اسی طرح خلافت ایک مدرسہ ہے اور خلیفہ استاد ہے اور جو یہ خیال کرتا ہے کہ یہ استاد مجھے کچھ نہیں سکھا سکتا اس کا اس مدرسہ میں داخل ہونا فضول ہے 461