تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 459
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد اول اقتباس از خطبہ جمعہ فرمود: 15 نومبر 1937ء اور بہت خوش ہیں۔بعض ابھی مشکلات میں ہیں اور مختلف ممالک کے متعلق بھی ہمیں نئے تجربے ہوئے ہیں۔مشرقی ممالک میں سوائے جاوا، سماٹرا اور سٹیٹس سیٹلمنٹ کے ہمیں ابھی کامیابی نہیں ہوئی۔چین اور جاپان میں ابھی تک بالکل کامیابی نہیں ہوئی بلکہ تازہ اطلاع جو آج ہی بذریعہ تار مجھے ملی ہے یہ ہے کہ جاپانی گورنمنٹ نے صوفی عبد القدیر صاحب کو قید کر لیا ہے اور ضمنا میں ان کے لئے دعا کی تحریک بھی کرتا ہوں۔اسکے متعلق ہم اب تحقیقات کرائیں گے کہ ایسا کیوں ہوا ہے لیکن بہر حال چوتھے سال کے ابتداء میں یہ واقعہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک قسم کا اندار ہے کہ سب حالات پر غور کر کے ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ اس قسم کی مشکلات بھی تبلیغ کے رستہ میں حائل ہوں گی۔صوفی عبد القدیر صاحب تحریک جدید کے تجارتی صیغہ کے نمائندہ تھے گویا وہ با قاعدہ مبلغ نہیں تھے اور ابھی زبان ہی سیکھ رہے تھے اور اب تو ان کی واپسی کا حکم بھی جاری ہو چکا تھا کیونکہ دوسرے مبلغ یعنی مولوی عبد الغفور صاحب برادر مولوی ابوالعطاء صاحب ہاں جاچکے ہیں تو تجارتی اغراض کے ماتحت جانے والے ایک احمدی کیلئے جب اس قدر مشکلات ہیں تو تبلیغ کیلئے جانے والوں کیلئے کس قدر ہوں گی۔جہاں تک معلوم ہو سکا ہے ان پر الزام یہ لگایا گیا ہے کہ وہ جاپانی گورنمنٹ کے مخالف ہیں اور یہ بھی ہمارے لئے ایک نیا تجربہ ہے۔انگریز ہمیں کہتے ہیں کہ تم ہمارے خلاف ہو اور دوسری حکومتیں یہ کہتی ہیں کہ تم انگریزوں کے خیر خواہ ہو۔بہر حال یہ سب نئے تجربے ہیں جو ہمیں حاصل ہو رہے ہیں اور ان سے پتہ لگ سکتا ہے کہ کس کس قسم کی روکاوٹیں ہمارے رستہ میں پیدا ہونے والی ہیں۔پھر ایک نیا تجربہ یہ ہوا ہے کہ امریکن گورنمنٹ نے ہمارے مبلغ محمد ابراھیم ناصر کو اس بناء پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی کہ وہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کے قائل ہیں تو ہمیں ان مبلغوں کے ذریعہ سے نئی نئی مشکلات کا علم ہوا ہے۔انکے علاوہ اور بھی کئی باتیں ہیں جن سے جماعت کے اندر بیداری پیدا ہوئی ہے۔سادہ زندگی ہے سینما اور تھیٹروں وغیرہ کی ممانعت ہے۔اپنے ہاتھ سے کام کرنے کا حکم ہے۔اس سے قوم میں نئی روح پیدا ہوتی ہے اور یہ سب ایسی چیزیں ہیں کہ ان کے بغیر کوئی قوم قوم ہی نہیں بن سکتی۔دنیا میں دوستم کی رفتار میں ہیں ایک تو یہ کہ جہاز کسی منزل کو سامنے رکھ کر چلے اور دوسری یہ کہ ایک شہتیر پانی میں بہا جارہا ہو۔پانی جس طرف لے جائے وہ ادھر ہی چل پڑے۔ہم نے جماعت میں صرف روانی نہیں پیدا کرنی بلکہ جہاز والی روانی پیدا کرنی ہے۔ہمارے لئے ضروری ہے کہ جماعت کیلئے کوئی مقصود قرار دیں اور مراقبہ کرتے رہیں کہ ہماری روانی جہازوں والی ہے یا شہتیر والی۔اگر ہم الہی جماعت 459