تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 412
خطبہ جمعہ فرموده 19 مارچ 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول کی طرف منسوب کرنے لگ جاتی ہے، کبھی ان چیزوں کو خدا بنادیتی ہے جن کو خدا نے اس کے تابع بنایا ہے اور کبھی اپنے میں سے کسی آدمی کو خدا تعالیٰ کی صفات دے دیتی ہے۔باوجود ایک کمزور مخلوق ہونے کے یہ عجوبہ چیز خدا تعالیٰ سے بھی بڑھ کر کام کر کے دکھانا چاہتی ہے یعنی صفات کا وہ کامل ظہور جو خدا تعالیٰ نے اپنے لئے مخصوص کر دیا ہے یہ ان کا خلعت بھی دوسرے لوگوں کو بخش دیتی ہے۔گویا انسان کہلاتے ہوئے خدا گر بننا چاہتی ہے۔اس مخلوق میں اگر فی الحقیقت خدائی صفات جلوہ گر ہو جائیں۔اگر تمام انسان اپنے اندر ربوبیت عالمین اور رحمانیت اور رحیمیت اور مالکیت یوم الدین کی صفات کا پر تو پیدا کر لیں تو پھر دُنیا میں سوائے خدا کے اور کونسی چیز باقی رہ جاتی ہے؟ انسانوں کے سوا تو باقی چیزیں پہلے ہی سے خدا تعالیٰ کی تسبیح کر رہی ہیں۔انسان ہی ہے جو اس میں رخنہ ڈالتا ہے اگر وہ بھی ان صفات کا حامل ہو جائے اور بجائے ایک علیحدہ وجود رکھنے کے صرف خدا تعالیٰ کے لئے ایک آئینہ بن جائے جس میں دُنیا خدا تعالیٰ کی صورت دیکھے تو بتاؤ شرک کے لئے کونسی چیز باقی رہ جاتی ہے؟ سب جگہ پر خدا ہی خدا کا جلوہ نظر آ جاتا ہے۔خدا تعالی کے سوا کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔یہی مقام تو حید ہے جس کے قائم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کھڑا کیا ہے اور انہیں حکم دیا ہے کہ نہ صرف یہ کہ وہ خود تو حید کے مقام پر کھڑے ہوں بلکہ دوسروں کو بھی اس مقام کی دعوت دیتے چلے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ تو حید دنیا میں قائم ہوتی چلی جائے اور شرک منتا چلا جائے۔نہ صرف زبانوں کے ذریعہ سے بلکہ اعمال کے ذریعہ سے بھی اور نہ صرف دعوئی کے ساتھ بلکہ حقیقت کے ساتھ بھی۔پس مومن کو ہمیشہ ان چار صفات کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ آیا وہ کس حد تک ان صفات کا مظہر بننے میں کامیاب ہو سکا ہے۔میں صرف پہلی صفت کو ہی اس وقت لیتا ہوں اور اس کے بھی صرف چند پہلو بیان کر کے اپنے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ کیا واقعہ میں ربوبیت عالمین کی صفت ان میں پیدا ہو چکی ہے۔ربوبیت عالمین سے جن باتوں کا اظہار کیا گیا ہے ان میں سے ایک دوام ہے۔رب العالمین بتاتا ہے کہ وہ رب تھا، وہ رب ہے اور وہ رب رہے گا۔جو چیز کسی وقت بھی ربوبیت میں ناغہ کرتی ہے وہ رب العالمین نہیں کہلا سکتی کیونکہ ناغہ کا وقت اس کی ربوبیت سے خارج ہو جاتا ہے اور رب العالمین ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ کوئی چیز اور کوئی وقت بھی اس کی ربوبیت سے خالی نہ ہو۔پس رب العالمین کی صفت ہم کو اپنے اعمال میں دوام کی طرف توجہ دلاتی ہے۔حدیث میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک دفعہ اپنی ایک بیوی سے فرمایا کہ اچھی عبادت وہ ہے جو ادُ وَمُهَا 412