تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 411
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد اول خطبه جمعه فرموده 19 مارچ 1937ء اپنی نیکیوں کو بے استقلالی کا شکار نہ ہونے دیں خطبہ جمعہ فرمودہ 19 مارچ 1937ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- » جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کلام سے معلوم ہوتا ہے انسان کی پیدائش کی غرض جو قرآن کریم میں عبودیت کا مقام حاصل کرنا بیان کی گئی ہے اس کی تشریح دوسرے لفظوں میں تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ اللهِ ہے یعنی انسان اللہ تعالیٰ کے اخلاق کو اپنے اندر اختیار کرے اور اس کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی صفات ظاہر ہوں۔اسی غرض کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ان چار جامع صفات کے ساتھ شروع کیا ہے جن کے ماتحت باقی سب صفات آجاتی ہیں اور وہ چار صفات یہ ہیں کہ اول خدا تعالیٰ رب العالمین ہے، دوم وہ رحمن ہے ، سوم وہ رحیم ہے اور چہارم وہ مالک یوم الدین ہے۔یہ چار صفات بندے کو اپنے اندر پیدا کرنی چاہئیں تب جا کر وہ اس مقصد کو پورا کرنے والا قرار دیا جا سکتا ہے جس کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے یعنی اس کے لئے ضروری ہے کہ جس حد تک انسان رب العالمین کی صفت کا مظہر ہو سکتا ہے وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا ظل ثابت کرے اور جس حد تک انسان رحمانیت کا مظہر ہو سکتا ہے وہ اپنے آپ کو رحمانیت کا نمائندہ ثابت کرے اور جس حد تک انسان الرحیم کے جلوہ کو ظاہر کر سکتا ہے وہ رحیمیت کی روشنی کو دنیا میں پھیلائے اور جس حد تک وہ مالک یوم الدین کا نمونہ قائم کر سکتا ہے وہ مالک یوم الدین کی شکل دُنیا کو دکھائے اور اگر ہم غور کریں تو یہی ذریعہ تو حید کامل کے قائم کرنے کا ہے کیونکہ شرک تو درحقیقت دوئی سے پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بیان فرماتا ہے کہ انسان کے سوادُنیا کا ذرہ ذرہ خدا تعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرتا اور اس کی سبوحیت کو بیان کر رہا ہے۔پس اگر کوئی شرک کی چیز باقی رہ گئی تو وہ صرف انسان کا وجود ہی ہے۔یہی چیز ہے جو کبھی خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں دوسرے خدا قرار دیتی ہے، کبھی خدا تعالیٰ کی عبادت کا حق دوسری چیزوں کو دے دیتی ہے، کبھی خدا تعالیٰ کے وجود کا ہی انکار کر بیٹھتی ہے، کبھی اس کی صفات میں نقائص پیدا کرتی ہے کبھی بُری چیزیں اس 411