تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 413
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اول خطبہ جمعہ فرموده 19 مارچ 1937ء ہو یعنی جو نیکیوں میں سے اور عبادتوں میں سے پائیدار ہو ، جس میں ناغہ نہ کیا جائے اور جسے چھوڑا نہ جائے اور جو ہمیشہ کے لئے انسان کے اعمال کا جزو ہو جائے۔یہ در حقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رب العالمین کی صفت کی ایک تشریح فرمائی اور متوجہ کیا کہ عبادت اور نیکی تبھی نیکی ہو سکتی ہے جبکہ انسان اس کو دائمی طور پر اختیار کرے اور گویا اس طرح آپ نے ربوبیت عالمین کی صفت پیدا کرنے کی طرف توجہ دلائی اور اس میں کیا محجہ ہے کہ جس چیز کو انسان کبھی لے لیتا ہے اور کبھی چھوڑ دیتا ہے ہم کبھی تسلیم نہیں کر سکتے کہ وہ اس کو اچھا سمجھتا ہے کیونکہ اگر وہ اُسے فی الحقیقت اچھا سمجھتا تو اُسے چھوڑتا کیوں؟ جس وقت کیلئے وہ اُسے اختیار کرتا ہے اس کے متعلق ہم خیال کر سکتے ہیں کہ وہ لوگوں کی نقل کر رہا تھا یا ایک عارضی جذبہ کے نیچے اس کی روح دب گئی تھی یا یہ کہ وہ نفاق کے طور پر ایسا کام کر رہا تھا لیکن جب کوئی شخص ایک چیز کو کلی طور پر اختیار کر لیتا ہے اور اُسے بھی نہیں چھوڑتا تو اس چیز کے متعلق ہمیں یقین ہو جاتا ہے کہ یا تو اُسے نیکی سمجھ کر اختیار کر رہا ہے یا عادتوں کے ماتحت اس کے ظلم کا شکار ہورہا ہے اور اس کے مقابلہ کی اس میں طاقت نہیں ہے۔غرض یا تو وہ اسے نیکی سمجھ کر اس سے محبت کرتا ہے یا اس چیز کا قیدی ہے کہ باوجود آزادی کی خواہش کے آزاد نہیں ہو سکتا اور یہ آخری بات ایسی نہیں کہ اس کا اس شخص یا دوسروں کو پتہ نہ لگ سکے۔پس ربوبیت عالمین انسان کی انہی صفات سے ظاہر ہوتی ہے جن کو وہ دائمی طور پر اختیار کر لیتا ہے اور جن میں وہ کبھی ناغہ نہیں ہونے دیتا۔ایک شخص جو نماز کا پابند ہوتا ہے اگر وہ کبھی کبھی بیچ میں ناغہ کر دے تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ نماز کا پابند ہے اور اس نیکی کے ذریعہ ربوبیت عالمین کی صفت ظاہر کر رہا ہے یا مثلاً ایک شخص کسی کسی وقت غریبوں پر رحم کر دیتا ہے کبھی کبھی اس بات کو چھوڑ بھی دیتا ہے، کبھی لوگوں کی مصیبتیں اس کے دل میں درد پیدا کرتی ہیں اور کبھی وہ اس کے دل پر کوئی اثر نہیں ڈالتیں۔تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس نے ربوبیت عالمین کی صفت ظاہر کی ہے۔اس کے رحم کو ہم کمزوری سمجھیں گے اور نیکی قرار نہیں دیں گے لیکن اگر ایک شخص ہمیشہ اپنے دل میں لوگوں کے لئے رحم محسوس کرتا ہے اور دوسروں کے لئے قربانی کی روح اس میں کبھی مردہ نہیں ہوتی تو ہم سمجھیں گے کہ یہ شخص واقعہ میں نیک ہے اور رب العالمین کی صفت کا مظہر ہے یا مثلاً ایک شخص ایک وقت میں دین کے لئے اپنی جان قربان کرنے کے لئے نکل کھڑا ہوتا ہے اور زمانہ جہاد میں جہاد کے ذریعہ اور زمانہ تبلیغ میں تبلیغ کے ذریعہ اپنی جان کو خدا تعالیٰ کی راہ میں ہلکان کرنے کے لئے آمادہ رہتا ہے، کبھی تو اس کے اعمال میں ایک جوش اور فدائیت ظاہر ہوتی ہے اور کبھی وہ ان کاموں کو چھوڑ کر خاموشی سے اپنے گھر میں بیٹھ جاتا ہے۔خدا کی آواز بلند ہوتی چلی جاتی ہے اور اس 413