تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 29

تحریک جدید- ایک ابھی تحریک۔۔۔جلد اول خطبہ جمعہ فرمود 23 نومبر 1934ء ہوگی۔مجھے خوب یاد ہے آج سے پچیس سال پہلے ڈاکٹری نسخہ کی قیمت دو تین آنہ سے زیادہ نہیں ہوتی تھی اور و آج کل جو قیمتی ادویات ڈاکٹر لکھ دیتے ہیں ان کے بغیر ہی مریض صحت یاب ہو جاتے تھے۔میں نے خود حضرت خلیفہ اسیح اول رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ کوئی بیماری ایسی نہیں جس کا علاج پیسہ، دھیلہ یا دمری سے نہ ہو سکتا ہو آپ ایک بزرگ صوفی کا ذکر کرتے تھے جنہوں نے اس موضوع پر کتاب لکھی ہے کہ انسانی بیماریوں کا علاج انسان کے جسم کے اندر ہی موجود ہے۔بعض بیماریوں کا علاج بال ہیں اور بعض کا علاج کان کی میل ہی ہے۔آنکھ کی بعض بیماریوں میں کان کی میل بہت فائدہ دیتی ہے لیکن آج کل ڈاکٹر مریضوں کا بہت سا روپیہ علاج پر خرچ کراتے ہیں اور ہر گھر میں کوئی نہ کوئی بیمار ضرور ہوتا ہے۔بعض گھروں میں کئی کئی مریض ہوتے ہیں ڈاکٹر نسخے پر نسخے لکھتے ہیں اور ان پر اس قدر روپیہ خرچ آتا ہے کہ بعض لوگوں نے مجھے جتلایا ہے کہ ان کی آمدنی کا چوتھائی حصہ علاج پر صرف ہو جاتا ہے۔بعض غریب لوگوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ ہم بیماری کی وجہ سے اتنے سو روپیہ کے مقروض ہو گئے ہیں۔حالانکہ دس پیسہ میں اس کا علاج ہوسکتا تھا۔پس ڈاکٹر اس بات کا عہد کر لیں کہ وہ اپنا سارا زور لگائیں گے کہ روپوں کا کام پیسوں میں ہو اور جب تک وہ یہ نہ سمجھیں کہ بغیر قیمتی دوا کے جان کے نقصان کا احتمال ہے اس وقت تک قیمتی ادویات پر خرچ نہ کروائیں گے۔مثلاً بعض ٹیکے ایسے ہیں جو بعض بیماریوں میں بہت مفید ہوتے ہیں اور ان کے بغیر چارہ نہیں ہوتا میں ان کی ممانعت نہیں کرتا اور وہ مہنگے بھی نہیں ہوتے۔میرا مطلب ایسی دوائیوں سے ہے جو آئے دن پیٹینٹ ہورہی ہیں، بڑی قیمتیں ان کی ہیں۔حالانکہ وہ چیزیں سستے داموں میں اپنے ہاں تیار کی جاسکتی ہیں یا پھر ان کی ضرورت ہی نہیں ہے اس طرح ملک کا اور ہماری جماعت کا روپیہ بے فائدہ باہر جاتا ہے اور قوم میں قربانی کی روح کم ہوتی ہے۔یورپ میں یہ روپیہ عیاشیوں میں خرچ ہوتا ہے۔اگر ہماری جماعت کے ڈاکٹر یہ عہد کر لیں کہ علاج میں ایسے غیر ضروری مصارف نہیں ہونے دیں گے اور جماعت کے لوگ یہ کوشش کریں کہ اپنے طبیبوں سے ہی علاج کرائیں گے تو پچاس ہزار روپیہ سالانہ کی بچت ہو سکتی ہے۔پنجاب میں سرکاری رپورٹ کے مطابق ہماری تعداد 56 ہزار ہے مگر ہم اسے صحیح نہیں سمجھتے اس وقت بھی جبکہ یہ مردم شماری ہوئی ہم اپنی تعداد ڈیڑھ دو لاکھ سمجھتے تھے اور اب تو اس سے بہت زیادہ ہے اگر بفرض محال سارے ملک میں اپنی تعداد چار لاکھ بھی سمجھ لیں اور دوآنہ فی کس علاج کی اوسط رکھ لیں ، پھر اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ دیہات میں عام طور پر علاج نہیں کراتے ، اگر اس تعداد کا دسواں بیسواں حصہ بھی لے لیا جائے تو باقاعدہ علاج کرانے والوں کی تعداد ہیں ہزار بن جاتی ہے اور 29