تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 779

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 393

تحریک جدید - ایک ابھی تحریک۔۔۔جلد اول - خطبہ جمعہ فرمودہ 15 جنوری 1937ء چند دن سے غیر احمدی اخباروں میں شائع ہو رہا ہے کہ جرمن کی غیر مبائعین کی مسجد میں بعض دفعہ ٹکٹ کے ذریعہ داخلہ ہوتا ہے۔اس بارہ میں غیر احمدی اخباروں میں بار بار چھینچ شائع ہوتے رہے ہیں، لیکن غیر مبائعین نے اس کی کوئی تردید نہیں کی۔پھر سوال یہ ہے کہ اگر ایک مذہبی لیکچر کے بدلہ میں پیسے وصول کرنے سے اشاعت اسلام میں فرق نہیں آتا تو بُوٹ یا گرسی بنا کر اگر پیسے لئے جائیں اور وہ غربا پر خرچ کئے جائیں یا اشاعت اسلام پر خرچ کئے جائیں تو اس سے اشاعت اسلام میں فرق کیوں آجاتا ہے؟ پھر یا درکھو! کہ اسلام نام ہے زندگی کے تمام شعبوں کو درست رکھنے کا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرمایا ہے کہ جو شخص سڑک پر چلتے ہوئے راستہ سے کنکر، پتھر اور کانٹے وغیرہ بنا کر ایک طرف کر دیتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے حضور ثواب کا مستحق ہے مگر اس حدیث کو دیکھ کر کوئی نہیں کہتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صفائیوں میں لگا دیا اور اشاعت اسلام کی طرف سے ان کی توجہ کو پھرا لیا۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض دفعہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیتے کہ گتے مارو۔چونکہ آوارہ کتوں کی کثرت کی وجہ سے خدشہ ہوتا ہے کہ وہ دیوانے ہو جائیں اور لوگوں کو نقصان پہنچے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیه وسلم بعض دفعہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو گتے مارنے کا حکم دے دیتے مگر کبھی کسی نے نہیں کہا کہ اشاعت اسلام سے اس طرح لوگوں کی توجہ پھر الی گئی ہے جو وقت گنوں کے مارنے پر صرف ہوگا وہی وقت تبلیغ میں کیوں نہ صرف کریں؟ پھر حدیثوں میں اور صحیح حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کو تیر اندازی اور نیزہ بازی کی مشق کراتے اور بعض دفعہ خود بھی اس میں شامل ہوتے ، اگر یہی بات درست ہے کہ جماعت کے کسی فرد کو لو ہارے یا تر کھانے کا کام سکھانے سے دین میں فرق آجاتا ہے تو کیوں یہ نہ سمجھا جائے کہ جتنی دیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کو نیزہ بازی یا تیر اندازی کراتے اتنی دیر دین میں فرق آیا رہتا تھا ؟ بلکہ بخاری میں تو یہاں تک لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ حضرت عائشہ سے فرمایا عائشہ! آتو بھی نیزہ بازی کے کرتب دیکھ۔یہ نہیں کہا کہ میں تو نیزہ بازی کے کرتب دیکھتا ہوں اور تم ذرا تبلیغ کر آؤ۔پھر کیا مولوی محمد علی صاحب کہہ سکتے ہیں کہ وہ کسی چائے کی پارٹی یا دعوت میں کبھی شامل نہیں ہوئے یا کیا وہ کہ سکتے ہیں کہ وہ کسی دوست سے کبھی ملنے نہیں گئے یا کہہ سکتے ہیں کہ وہ کسی بیمار کی عیادت کے لئے کبھی نہیں گئے یا کیا وہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ کہیں سیر کے لئے کبھی نہیں گئے ؟ اگر نہیں کہہ سکتے تو انہوں نے ان وقتوں کو تبلیغ اسلام میں کیوں صرف نہیں کیا ؟ اگر کسی دعوت میں کیک اور 393