تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد اول۔ 1934 تا 1939) — Page 392
خطبہ جمعہ فرمود : 15 جنوری 1937ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد اول آتی غالبا اس لئے کہ لائل پور کے لوگ اپنی ذات کے لئے کماتے ہیں۔پس مولوی محمد علی صاحب کے نزدیک اپنی ذات کے لئے کمانے میں کوئی حرج نہیں لیکن جب ہم کسی یتیم ، غریب اور بے کس کے لئے کمائیں تو دین میں فتور آجاتا ہے۔ہمارے کارخانے چونکہ اپنے ذاتی مفاد کے لئے نہیں بلکہ ان کے قائم کرنے کی غرض یہ ہے کہ تیموں اور بیواؤں کی خبر گیری کی جائے اور انہیں کام مہیا کر کے دیا جائے جس سے وہ اپنی روزی کما سکیں اس لئے ان کے نزدیک قادیان کی جماعت احمد یہ دین اسلام سے بالکل بے رغبت ہوتی چلی جاتی ہے اور اشاعت اسلام کا کام اُس نے بند کر رکھا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر لطیفہ یہ ہے کہ انجمن اشاعت اسلام لاہور مربعے خریدتی اور انہیں اپنے استعمال میں لاتی ہے اور اس سے دین کی اشاعت میں کوئی فرق نہیں آتا لیکن غریب کو پیشہ سکھا دیا جائے تو اس سے دین کی طرف سے پوری بے رغبتی ہو جاتی ہے اور اشاعت اسلام میں فورا فرق آجاتا ہے ، اگر مولوی محمد علی صاحب کتابیں لکھیں اُنہیں بیچیں اور اُن کی آمد اپنی ذات پر خرچ کریں تو یہ عین دین ہے لیکن اگر میاں نذر محمد مستری غریبوں اور قیموں کو کام سکھلائیں اور میری یا کسی اور کی نگرانی میں کام ہو تو یہ بے دینی ہے۔گویا جب کارخانوں کی آمد یا کتابوں کی آمد یا بعض اور آمد نیاں مولوی محمد علی صاحب کے پاس جائیں تو یہ دین ہے لیکن جس دن وہ آمد کسی بیوہ کو ملنے لگے اُسی دن سے اشاعت اسلام کے کام میں رکاوٹ پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے! میں اگر کتا بیں لکھ کر سلسلہ کو دے دوں اور اس کی آمد بھی سلسلہ کے مفاد کے لئے ہی خرچ ہو تو یہ میری غفلت اور بے ایمانی ہے لیکن اگر مولوی محمد علی صاحب کتا ہیں لکھ کر خود نفع سمائیں تو یہ دین کی خدمت اور اسلام کی اشاعت لائل پور والے اگر کارخانے جاری کریں اور بڑی بڑی رقمیں مولوی محمد علی صاحب کو بھجوائیں تو یہ جائز لیکن اگر قادیان میں غربا کے لئے کارخانے جاری کر دیئے جائیں تو دین میں فرق آجاتا ہے۔حالانکہ اسلام نام ہی ہے ہر قسم کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا جیسا کہ میں او پر اشارہ کر آیا ہوں بدر کی جنگ کے بعد جب قیدی آئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن قیدیوں سے فرمایا کہ ہم تم سے کوئی فدیہ نہیں لیتے تم مدینہ کے بچوں کو پڑھا دیا کرو۔وہ قیدی آخر انہیں قرآن نہیں پڑھاتے تھے یہی لکھنا پڑھنا سکھاتے تھے اور لکھنا پڑھنا بھی ویسا ہی کام ہے جیسے لو ہارا یا تر کھانا۔پھر اگر اپنے سکول جاری کرنے سے دین کی خدمت کا جذبہ کم نہیں ہوتا تو تر کھانے یا لوہارے کا کام سکھانے سے دین کی خدمت کا جذبہ کیوں کم ہو جاتا ہے؟ اس کا تو یہ مطلب ہے کہ ہم اگر کسی کو الف، ب، پڑھا ئیں تو یہ دین کی اشاعت ہے اور اس سے اسلام میں کوئی فرق نہیں آسکتا لیکن اگر ہم کسی یتیم کو پیشہ سکھا دیں تو اس سے دین میں فرق آجاتا ہے؟ 392